بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہر کے انتقال کے وقت مو جودہ بیوی کو وراثت کا حصہ ملے گا؟

سوال

کسی عورت کےشوہر کا انتقال ہوگیا اور عورت چاہتی کہ کہیں اور نکاح ہو جائے ،اب پوچھنایہ ہے کہ آیا یہ عورت پہلے شوہر کی وارثہ ہوگی یا نہیں ؟اور اگر ہوگی تو کیا اس کی کوئی میعادہےیانہیں؟

جواب

وراثت کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ مورث کے انتقال کے وقت اس کےجو شرعی ورثاءزندہ ہوں ان میں میراث تقسیم ہوگی لہٰذامورث کے انتقال کے وقت جو خاتون اس کےنکاح میں ہو وہ وراثت کی حقدار ہوگی اگرچہ وہ بعد میں دوسری جگہ نکاح کرلے ،نیز اس کے لیے کوئی میعاد بھی نہیں ہے ،جب بھی میراث تقسیم ہو گی ،مذکورہ خاتون کو شرعاً میراث میں سےحصہ ملے گا ۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي الحنفي(م: 1088ھ)(6/ 762)سعيد
(ويستحق الإرثَ…(برحم ونكاح)صحيح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا۔
وفيه أيضاً(6/ 758)سعيد
وهل إرث الحي من الحي أم من الميت؟ المعتمد: الثاني۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين،الشامي(م:1252ھ) (6/ 758)سعيد
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس