میرا نکاح 21 ستمبر 2024 کو محمد عمر ولد ندیم اسلم سے ہوا، عمر قطر میں رہائش پذیر ہیں جبکہ پاکستان میں ان کی رہائش والدین کے ساتھ نہیں، بچپن سے دادی نے پالا اور ان کے گھر آج بھی آئیں تو وہیں رہتے ہیں۔ میری رخصتی کے لیے آمادہ نہیں ہیں اور کہا کہ رخصتی کے بعد میرے والدین کے ساتھ رہنا ہوگا، چاہے کچھ بھی ہو جائے، میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں رکھوں گا۔ جبکہ دوسری طرف عمر کے والد کا رویہ بہت ہی عجیب رہا، مجھ سے ملاقات کے بہانے تلاش کرتے اور سڑک پر روک کر ملاقات کرتے جو نہایت نامناسب لگتا تھا۔ میرے والدین نے اس بات سے منع کیا لیکن وہ نہیں مانے اور رات دس بجے کے بعد ہر دوسرے دن آتے کہ بریرہ سے ملنا ہے۔ یہ سب میرے لیے ناقابلِ قبول تھا۔
عمر بھی مجھے یہی کہتے تھے کہ میرے والد ایسے ہی ہیں، میں منع کروں گا کہ وہ ایسا نہ کریں، مگر کچھ عرصے بعد عمر نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ ایسے ہی ہیں، تم مل لیا کرو اور اچھی خاطر مدارت کیا کرو۔ یہ سب باتیں انتہائی تکلیف کا باعث بنیں، مگر عمر کے کہنے کے مطابق ان کے والدین کو خوش کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس کے برعکس عمر کا رویہ بھی مجھے ذہنی اذیت میں مبتلا کر رہا تھا، میرے بارے میں عجیب و غریب باتیں کیں، میری تذلیل کی اور مجھے ایسی باتیں کہیں جو بیان کرنا مناسب نہیں۔
عمر کے کہنے کے مطابق وہ بچے نہیں چاہتے بلکہ بچے ایڈاپٹ(گود لیا) کر لیں گے اور دوسرا، مجھے اپنے ساتھ قطر رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اور یہ بھی کہ مجھ سے بہتر ان کی کولیگ (دفتری ساتھی)ہے۔ میری شخصیت کا مذاق اڑاتے اور تضحیک کرتے۔ ان سب باتوں کو سن سن کر میری ذہنی حالت متاثر ہوئی اور میرا نروس بریک ڈاؤن ہوا(اعصابی وذہنی دباؤ کا شدید حملہ)، ہسپتال لے جانا پڑا اور دو ڈھائی گھنٹے بے ہوش رہی۔
اس کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں اس شخص سے خلع چاہتی ہوں، جبکہ وہ خلع نہیں دے رہے۔ میں اب اس ذہنی مریض کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ مجھے خلع کا مطالبہ کرنے پر دھمکایا گیا اور کہا کہ ساری زندگی خلع نہیں دوں گا۔ مجھے شرعی تقاضے کے تحت خلع کے لیے فتویٰ درکار ہے۔
نکاح کے بعد حتیٰ الامکان اس رشتے کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر تمام تر کوششوں کے باوجود نباہ ممکن نہ ہو اور بیوی شوہر کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہو تو شرعاً اُسے حق حاصل ہے کہ شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کرے یا اس سے مہر یا اضافی مال کے عوض خلع لے لے۔ البتہ خلع کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے۔ شوہر کی رضامندی کے بغیر مروجہ عدالتی یکطرفہ خلع یا طلاق شرعاً معتبر نہیں ہے۔
لیکن اگر بیوی کے طرف سے رخصتی اور بسانےکے مطالبہ کے باوجود شوہر بسانے پر آمادہ نہ ہو تو بیوی عدالت میں دعویٰ دائر کرسکتی ہے(نیز بسانے کا مطلب یہ ہے کہ شوہر اپنی استطاعت کے مطابق اپنی بیوی کے لیے باقاعدہ مکمل محفوظ رہائشی گھر یا کمرہ مع بیت الخلاء کا انتظام کرے)۔ اگر عورت دعوی دائر کرتی ہے توعدالت شوہر کو طلب کر کے اسے حکم دے کہ وہ یا تو اپنی بیوی کو رخصت کر کے بسالے، یا طلاق یا خلع پر آمادہ ہو۔ اگر شوہر عدالتی حکم کے باوجود نہ مانے، یا علم ہونے کے باوجود بغیر کسی عذر کےعدالت میں حاضر ہی نہ ہو، تو عدالت شرعی اصولوں کے مطابق فسخِ نکاح کا فیصلہ صادر کرسکتی ہے۔ فسخِ نکاح کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہوگی۔
قال الله تعالیٰ[البقرة:229]
{ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ}
أحكام القرآن للجصاص(2/ 239)
فأخبر علي أن قول الحكمين إنما يكون برضا الزوجين فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج
المبسوط للسرخسی (6/ 173)
والخلع جائزعند السلطان وغیرہ لانہ عقد یعتمد التراضی
الفتاوی الھندیۃ(1/519)
اذا تشاق الزوجان وخافا ان لا یقیما حدود اللہ فلا باس بان تفتدی نفسھا منہ بمال یخلعھا بہ فاذا فعلا ذلک وقعۃ تطلیقۃ بائنۃ ولزمھاالمال
مجمع الانھر(2/102)
أي بالخلع (عند الحاجة) بل هو مشروع بالكتاب والسنة وإجماع الأمة عند ضرورة عدم قبول الصلح وفي شرح الطحاوي إذا وقع بينهما اختلاف فالسنة أن يجتمع أهل الرجل والمرأة ليصلحا بينهما فإن لم يصلحا جاز له الطلاق والخلع وفيه إشارة إلى أن عدم الخلع أولى۔
الدر المختار (3/ 599)
(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية
فتاوی دار العلوم کراچی(امداد السائلین)(4/182)
اب جبکہ لڑ کے اپنی بیوی کو اپنے گھر لے جانے اور حقوق زوجیت ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تو شرعا یہ لڑ کے متعنت ہیں اور متعنت کی بیوی کو اس سے آزاد کرانے کا
طریقہ یہ ہے کہ اول تو پوری کوشش کریں کہ ان کے شوہر طلاق دے دیں یا خلع کر لیں، اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں ان لڑکیوں کو تفریق کا حق مل سکتا ہے۔
کفایت المفتی(8/570)
اگر عورت کے لئے گزارے اور حفظ صحت کی کوئی صورت نہیں اور خاوند ان امور کی پرواہ نہیں کرتا تو عورت کو حق ہے کہ کسی مسلمان حاکم کی عدالت میں اپنا نکاح فسخ کرائے۔