بعدخیریت کےعرض ہےکہ میری شادی3سال قبل ہوئی تھی۔شادی کےچندماہ بعد اختلافات پیدا ہوگئےتھے ۔ ایک سال بعد ایک بیٹی پید اہوئی مگر اختلافات مزید پیداہوتے گئے ۔ خاندان کے لوگوں نے مفاہمت کی کوشش کی، لیکن بے سود ۔اس کے بعد وہ اپنے گھر چلی گئیں اور جاتے ہوئے یہ کہہ کر کہ اب واپس نہ آنے کے لئےجارہی ہوں اور یہ بھی کہا کہ میں نے اپنے گھروالوں کو اطلاع کردی ہے کہ میں واپس ناجانے کےلئے آرہی ہوں ۔خاندان کے بڑے لوگوں نے اس دوران مفاہمت کی کوشش بھی کیں لیکن جب کوئی صورت سامنےنہیں آئی توخاندان والوں کےمعلوم کرنےپرلڑکی کایہ آخری جواب تھاکہ آپ میرا فیصلہ کرادیں، میں مزیدنہیں رہنا چاہتی ۔اس کےبعد لڑکی والوں نے جھوٹ پر مبنی عدالت میں مقدمہ درج کرادیااور جہیزکی اشیاءکوبڑھاچڑھا کر مانگا۔ عدالت نےتقریبا2سال بعدمقدمہ کافیصلہ کردیا۔عدالت نے جھوٹ پرمبنی اشیاءکوختم کرکےفیصلہ کیاکہ جو چیزیں حقیقت میں دی وہ واپس کردیں+مہرکی رقم اداکردیں+بچی کاخرچہ جو عدالت نےطےکیاہےیہ سب میں اداکررہا ہوں مجھے والد صاحب کی طرف سے8000روپےماہانہ ملتاہے۔جبکہ نکاح کے وقت والد صاحب نےجوچوڑیاں دی تھیں وہ میں نے2سال قبل فروخت کرکےوکیل اورعدالت کاخرچہ کررہاہوں جبکہ اس چوڑیوں کونہ نکاح کےوقت لڑکی کے نام کیاتھا نہ بعد میں لیکن شادی کے موقع پر صرف پہنائی تھی۔شرعی طورپراس کی کیاحیثیت ہےمجھےبتادیں ۔ میں انشاء اللہ اسی طرح عمل کروں گا۔آپ میری راہ نمائی فرمادیں۔منگنی کےموقعہ پرایک انگوٹھی اورایک23½ کا لاکٹ دیا تھا۔انگوٹھی چوری ہوگئی ہے۔
اگرسوال میں ذکرکردہ چوڑیاں اپنےاپنی بیوی کومالک بناکردی تھیں تووہ عورت کی ہیں اوراگرعاریۃًدی تھیں تووہ چوڑیاں آپ کی ہی ہیں عورت کی نہیں اوراگردیتےوقت ملکیت یاعاریت کی کوئی تصریح نہیں تھی تورواج اور عرف کااعتبارہوگاکہ اگررواج تملیک کاہےتووہ زیورعورت کاہےجیساکہ ہمارارواج ہےاوراگردونوں طرح کارواج ہے اورعورت کےپاس تملیک(مالک بنانے )کےگواہ بھی نہیں توآپ کاقول قسم کے ساتھ معتبرہوگا۔