بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہر کا بیوی کے ہاتھ میں تین کنکر دے کر یہ کہنا کہ تو ان کی مالکہ ہے

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسمیٰ دین محمد اور اس کی اہلیہ کے درمیان جھگڑا ہوا اور دورانِ جھگڑا بیوی نے شوہر سے کہا میں آپ کے ساتھ رہنے پر خوش نہیں میں اپنا مہر بھی معاف کرتی ہوں آپ مجھے طلاق دے دو ،اب شوہر نے تین کنکر اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دیے اور کہا “تو ان کی مالکہ ہے،لہذا تو اس پر خوش ہے تو اپنے باپ کے گھر میں رہو” اور مذکورہ معاملے میں شوہر کی نیت طلاق ہی کی تھی ،نیز میاں بیوی کا بیان بھی سوال کے ساتھ منسلک ہے ،لہذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ ہماری راہنمائی فرمائیں صورتِ مسئولہ میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق کے لیے ایسے الفاظِ مخصوصہ کا زبان سے کہنا یا لکھنا ضروری ہے جو صراحتاً یا کنایتاً طلاق کے معنی ٰ پر دلالت کرتے ہوں ایسے الفاظ کو زبانی یا کتابتاً استعمال کیے بغیر محض کسی اشارے ،فعل یا کسی ایسے لفظ سے طلاق دینا جو طلاق کے لیے موضوع ہی نہ ہوں ،طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگرچہ دینے والا ان الفاظ ،افعال یا اشارات سے طلاق کی نیت بھی کرے ،اس لیے کہ طلاق کے وقوع کے لیے الفاطِ مخصوصہ رکن کی حیثیت رکھتے ہیں ،لہذا جب تک رکنِ طلاق (الفاظِ مخصوصہ )زبان یا کتابت کےذریعے نہ کہے جائیں طلا ق واقع نہیں ہوگی ،البتہ اگر ایسے افعال یا اشارات کے ساتھ الفاظ ِمخصوصہ “جو طلاق کے لیے موضوع ہو ں “کہے جائیں گے تو ان الفاظ کا اعتبار کرتے ہوئے وقوعِ طلاق کا حکم لگایا جائے گا ۔
مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ الفاظِ طلاق (خواہ صریح ہوں یا کنایات) کے تلفظ کے بغیر صرف کنکر پھینکنے یا دینے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ،اگرچہ کسی جگہ کے عرف میں اس طرح سے طلاق دینے کا رواج ہو،لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر نے بیوی کو تین کنکر طلاق کی نیت سے تھما تے ہوئے کہا “تواس کی مالکہ ہے، لہذا تو اس پر خوش ہے تو اپنے باپ کے گھر میں رہو”تو محض کنکر تھمانے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،نیز کنکر تھمانے کے ساتھ جو مذکورہ الفاظ کہے ان سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،اس لیے کہ یہ ایسے الفاظ نہیں جو طلاق کے لیے موضوع ہوں ۔ اس تمام تفصیل کے بعد واضح ہوگیا کہ صورتِ مسئولہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور دونو ں کے درمیان زوجیت کا رشتہ بدستور برقرار ہے ۔ (ماخوذ از تبویب دارالافتاء دارالعلوم کراچی)
رد المحتار(3/ 230) دار الفكر
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي
وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البواديمن أمرها بحلق شعرها لا يقع به طلاق وإن نواه۔
رد المحتار) (3/ 247)
 وأراد بما اللفظ أو ما يقوم مقامه من الكتابة المستبينة أو الإشارة المفهومة فلا يقع بإلقاء ثلاثة أحجار إليها أو بأمرها بحلق شعرها وإن اعتقد الإلقاء والحلق طلاقا كما قدمناه لأن ركن الطلاق اللفظ أو ما يقوم مقامه مما ذكر كما مر۔
بدائع الصنائع (3/ 98) دار الكتب العلمية
وأما بيان ركن الطلاق فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكناية أو شرعا، وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ أما اللفظ فمثل أن يقول في الكناية: أنت بائن أو أبنتك أو يقول في الصريح أنت طالق أو طلقتك وما يجري هذا المجرى۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس