میں اپنی پوری ذمہ داری سے مندرجہ ذیل سوالات کا فتوی حاصل کرنا چاہتا ہوں یہ کہ میری شادی میری خالہ زاد سے 29/11/1999 میں ہوئی جبکہ میری بڑی بہن کی شادی میرے بڑے سالے سے 92-1991 میں ہوئی تھی ۔ میرے تین بیٹے ہیں جن کی عمریں 13 سال ، 11 سال اور 9 سال ہیں۔ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ تقریباً 13 سال 7 ماہ گزارے لیکن وہ اپنے رویے کو درست نہ کر سکی۔ میں نے اس کی بداخلاقی ، بد تمیزی اور حکم عدولی کو 13 سال 7 ماہ تک برداشت کیا۔ میں نے اپنی پوری صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے اس کو اپنے رویے کو ٹھیک کرنے کے لیے بار بار کہا۔ وہ شروع دن سے ہی میرے والدین ، بہن بھائیوں کے خلاف تھی۔ پھر بھی میں اس کے ساتھ اپنی پوری کوشش اور برداشت سے وقت گزارتا رہا، کبھی بڑی بہن کے گھر کی وجہ سے ،کبھی بچوں کی وجہ سے چپ رہا۔ میری بیوی کا 30/04/2013 کو اس کی اپنی غلطی اور میری حکم عدولی کی وجہ سے ایکسیڈنٹ ہو گیا میں نے اسکے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ علاج سے 80 ٹھیک ہو گئی تھی ،مگرچھوٹا سالہ اُس کی ہر غلط بات پر اس کا ساتھ دینے اور شوہر کی نافرمانی کرنے میں پیش پیش رہے اور یہ کہتے رہے کہ میں اسک ا علاج ٹھیک نہیں کروا رہا ۔ اس پر میری چھوٹے سالے سے بدزبانی کی حد تک جھگڑا ہو گیا۔ میری بیوی نے بھی کئی بار میرے والدین ، بہن بھائیوں کے خلاف گندی زبان استعمال کی اور بدتمیزی ، بداخلاقی اور گستاخی کی حد کر دی۔ میرے بار بار منع کرنے پر جب وہ بدتمیزی، بداخلاقی اور گستاخی کرنے سے نہ رکی تو میں نے اس کو مؤرخہ 02/06/2013 طلاق دے دی ۔
میں نے ایک طلاق 06/06/2006 میں دی تھی جو کہ چھوٹے سالےکی وجہ سے دی تھی اور مزید تین طلاقیں 02/06/2013 کو دی ہیں ۔ 2006 میں میں نے یوں کہا میں نے تمہیں ایک طلاق دی اور 2013 میں یہ الفاظ استعمال کیے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ( ان الفاظ کو میں نے تین مرتبہ دہرایا ہے )۔
نمبر ۱۔میری بیوی کی تعلیم پرائمری ہے ۔ جبکہ میں ایک سرکاری آفیسر ہوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں اور دینی گھرانے سے تعلق ہے۔ اور اب لاہور میں ملازمت کی وجہ سے رہتا ہوں میری بیوی ڈیرہ اسمعیل خان شہر میں رہتی ہے اس کے وسائل بالکل نہیں ہیں ، ماسوائے اپنے شادی شدہ بھائیوں کے کہ وہ اس کی مالی مدد کریں ۔ اسلامی نقطہ نظر میں لڑکے سات سال تک ماں کے پاس رہ سکتے ہیں۔ میری سابقہ بیوی کے وسائل اپنی اولاد کی پرورش و تربیت کے بالکل نہیں ہیں۔ میرے سب سے چھوٹے بچے کی عمر 9 سال دوسرے کی عمر 11 سال اوربڑے کی عمر 13 سال ہے۔
میری بڑی بہن ایک سکول میں ہیڈ مسٹریس ہیں اور میرےبہنوئی پر اپنے خاندان کی طرف سے بہت دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ بھی میری بہن کو خدانخواستہ طلاق دے دے یا میں بچوں کی کفالت سے باز رہوں اور بچے ماں کو دے دوں ۔ جبکہ میں لاہور میں اکیلا رہتا ہوں میرے وسائل اللہ کے فضل سے اتنے ہیں کہ میں اپنے بچوں کی بہت اچھی طرح پرورش تعلیم و تربیت اور اچھا ماحول دے سکتا ہوں ۔ آپ ان سب باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے فتوی دیں۔
نمبر ۲۔۔کیا میں ایسی صورت میں دل پر پتھر رکھ کر ایک بچہ یا سب بچے ماں کو دے دوں۔ کیا ایسا کرنے سے بچوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی نہ ہوگی، کیا باپ کا بچوں پر کوئی حق نہیں ہے؟
نمبر ۳۔میرے کچھ معاملات جیسے میری دو عدد پلاٹ کی رجسٹری وغیرہ جو کہ میرے نام ہیں میرے چھوٹے سالے کے پاس ہیں اور وہ مجھے نہیں دینا چاہتا۔ میری بیوی کے والد کی وفات پر اس کی دکان کی فروخت پر بیوی کے حصے کے 379500 روپے تقریباً د سمبر 2012 سے میرے پاس ہیں وہ اور اس کا کچھ سامان برتن وغیرہ میں واپس کرنا چاہتا ہوں اور عدت کا نان نقطہ دینا چاہتا ہوں ۔ میں بچوں کا جیب خرچ منی آرڈر کی صورت میں دے رہا ہوں جس کی رسید میرے پاس ہیں ۔
نمبر ۴۔اب تک او پر لکھے معاملات حل نہیں ہوئے کیا میں کچھ برتن جو کہ بیوی کے ہیں استعمال کر رہا ہوں ٹھیک ہیں یا نہیں ؟
نمبر ۱۔ صورت مسئولہ میں آپ کا سالا اور اس کے خاندان والوں کا آپ پر یا آپ کے بہنوئی پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنایا نا جائز امور کا مطالبہ کرنا ہرگز جائز نہیں ہے، لہذا ان کو ایسے اعمال اور باتوں سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے ۔ غیر شرعی باتوں پر دوسرے کو مجبور کرنے سے وہ گناہ گار ہو نگے ۔
نمبر ۲۔درج ذیل فقہی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی سات سال عمر کے بعد پرورش اور تعلیم و تربیت کا حق باجماع امت محمدیہ (علی صاحبھا الصلوۃ والسلام)باپ کوہے ، عورت کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بچوں کو اپنے پاس زبردستی رکھے ، لہذا جو بھی جائز ممکنہ صورت اور ذریعہ اختیار کیا جا سکتا ہو اس طریقہ پر بچوں کو اپنی زیرِ تربیت لائیں ، خواہ خاندان اور برادری کے بڑے لوگوں کے ذریعہ ہو یا عدالت کے واسطے سے ۔
نمبر ۳۔آپ اپنے حق کا مطالبہ خوش اسلوبی سے کرتے رہیں اور اپنی ساتھ بیوی کا وراثتی حصہ 500 379 روپےاور اس کی ذاتی اشیاء جلد واپس کردیں نیز اگر اس نے عدت آپ کے گھر گزاری ہے یا آپ کی اجازت سے اپنے والدین کے گھر گزاری ہے تو اس کا نان و نفقہ دینا آپ پر واجب ہے ،بصورت دیگر آپ پر شرعا لازم نہیں ہے۔
نمبر ۴۔اب چونکہ آپ اور آپ کی سابقہ بیوی کےدرمیان زوجیت کا رشتہ باقی نہ رہا اب ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہے، لہذا ایک دوسرے کی چیزوں کو بغیر اجازت کے استعمال کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے ۔نیز آپ کی بیوی کے بھائیوں پر بھی لازم ہے کہ وہ آپ کی مملوکہ اشیاء آپ کو واپس کریں بصورت دیگر سخت گناہ گار ہوں گے۔