بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہر مارپیٹ کے ڈر سے مجبور ہو کر طاق نامہ پر دستخط کردے

سوال

میں پاکستان کی رہنے والی ہوں لیکن شادی کے بعد میرے سسرال والے انگلینڈ رہتے تھے تو میں انگلینڈچلی گئی ۔میرا اور میرے شوہر کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں تھا لیکن میرے ساس سسر مجھے پسند نہیں کرتے تھے اُنھوں نے حالات اتنے مشکل کر دیے کہ مجھے اپنے والدین کے پاس پاکستان واپس آنا پڑا۔
میرے سسر نے میرے شوہر کو طلاق کے لیے بہت مجبور کیا تو میرے شوہر نے ان سب سے تنگ آکر اپنے والد کو چپ کروانے کے لیے مجھے ایک بار طلاق لکھ کے بھیج دی جس کے الفاظ یہ تھے : ” میں ، ذیشان محمود راجہ اپنی بیوی ثناء علی کو طلاق دیتا ہوں” اور اس کے فوراً بعد مجھے فون کر کے رجوع بھی کر لیا۔ اس کے بعد میرے سسر نے خود طلاق لکھ کے میرے شوہر کو مجبور کیا کہ وہ اس پہ سائن کریں اگر اس وقت وہ سائن نہ کرتے تو مار پیٹ تک نوبت چلی جاتی۔ باپ سے ہاتھا پائی کا خطرہ تھا وہ طلاق اُردو میں تھی جو میرے شوہر نہ لکھ سکتے ہیں اور نہ پڑھ سکتے ہیں۔ بہت مجبور ہونے کے بعد سائن کرتے ہوئے باقاعدہ نیت کی تھی کہ یا اللہ تو جانتا ہے یہ کسی طرح میرے سے سائن لے رہے ہیں میں اسکو نہیں مانتا تو بھی نہ مان۔
اور اُس کے بعد مجھے فون کر کے بولا کہ جیسے ہی وہ کاغذ ملے پھاڑ کے پھینک دینا۔ اس بات کو 7 سال گزر چکے ہیں اور میرے شوہر اب پاکستان آ کے مجھے اور ہماری بیٹی کو واپس لے جانا چاہتے ہیں کیونکہ اب حالات کچھ ہمارے حق میں بہتر ہوئےہیں۔ اب میرے بارے میں کیا حکم ہے۔ ؟ راہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں پہلی دفعہ طلاق دینے سے آپ پر ایک طلاق واقع ہو چکی ہے جس کے بعد شوہر نے رجوع بھی کیاہے۔ دوسری دفعہ شوہر نے مار پیٹ کے ڈر سے مجبور ہوکر طلاق نامہ پر دستخط کیے، اگر واقعتًا زبردستی اور مار پیٹ کے ڈر سے صرف دستخط کیے زبان سے کوئی الفاظ نہیں کہے تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، لہذا آپ دونوں رشتہ زوجیت باقی رہنے کی وجہ سے اکھٹے رہ سکتے ہیں، لیکن شوہر کو آئندہ کےلئے صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہے۔
الفتاوى الهندية (1/ 379) دار الفكر
رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان۔
رد المحتار (3/ 236)سعيد
 فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا۔
الفتاوى الهندية (1/ 470) دار الفكر
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس