بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہر ،بہن اور والدہ کے درمیان وراثت کی تقسیم

سوال

نمبر۱۔ ایک عورت کاانتقال ہوا،اس کی کوئی اولاد نہیں ہےوالدپہلےہی فوت ہوچکےتھے،اس مرحومہ کےورثاء میں ایک تایا ،ایک چچا،والدہ محترمہ،ہمشیرہ اورشوہرہیں اس کی وراثت میں کچھ برتن ،دوعدد بسترے،ان کےذاتی استعمال کےکپڑے،اورکچھ درسی کتابیں ہیں۔ پوچھنایہ ہےکہ مرحومہ کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟ واضح رہےمرحومہ کےذمہ کسی کاقرض نہیں ہےاور نہ ہی مرحومہ نےکسی غیر وارث کےلیےوصیت کی ہےاوران کی تجہیزوتکفین کاخرچہ شوہرنےاداکیاہے۔
نمبر ۲۔ اوراگرتمام ور ثاء باہمی رضامندی سےمیراث تقسیم کرناچاہیں توکیاحکم ہے؟
نمبر ۳۔ وارث کےحق میں وصیت شرعاًمعتبر ہےیانہیں؟

جواب

نمبر ۱۔ سوال میں ذکرکردہ تفصیل اگردرست ہےتومرحومہ کی میراث تقسیم کرنےکاشرعی طریقہ یہ ہےکہ کل مال کےآٹھ(8)برابرحصّےکرلئے جائیں جن میں سےتین (3) حصّےشوہر کو،تین حصّےبہن کواوردو حصّےمرحومہ کی والدہ کودیدئیےجائیں اورصورت مسئولہ میں چچا اورتایا کومیراث میں سےحصّہ نہیں ملےگا۔
نمبر ۲۔ ورثاء سب حاضر،بالغ اوررضامند ہوں توباہمی صلح کےذریعہ میراث تقسیم کرسکتےہیں۔
نمبر ۳۔شرعی وارث کےحق میں وصیت شرعاً معتبر نہیں۔
تقسیم ِمیراث کانقشہ حسبِ ذیل ہے

مسئلہ:6عـ8

چچا ۲ والدہ بہن شوہر
عصبہ ثلث نصف نصف
م ۲ ۳ ۳
الدر المختار ،علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(6/257)سعيد
وصحت برضا الشركاء إلا إذا كان فيم صغير أو مجنون لا نائب عنهأ و غائب لاوكيل عنه لعدم لزومها حينئذ إلا بإجازة القاضي أو الغائب أو الصبي إذا بلغ أو وليه
الدر المختار ،علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(6/649)سعيد
وشرائطها كون الموصي أهلا للتمليك… و كون الموصى له حيا وقتها تحقيقا أو تقديرا ليشمل الحمل الموصى له فافهمه، فإن به يسقط إيراد الشرنبلالية و كونه غير وارث وقت الموت ولا قاتل. فقط
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس