بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہرنے بیوی کوکہا”تجھےایک طلاق ہے”اورعدت گزرگئی/شوہرنےقسم کھائی “اگرمیں نےتجھےادھرماراتوتجھےتین طلاق” قسم کوختم کرنےکاطریقہ

سوال

میری اہلیہ اپنےمیکےگئی ہوئی تھی کہ میں نے5ستمبر2012ءکوفون کرکےاس سےپوچھا کہ تونےآناہےیانہیں؟اس نےآنےسےانکارکیاتومیں نےایک مرتبہ یہ الفاظ کہے”تجھےایک طلاق ہے”اورایک گالی بھی دی اس نےپوچھاکہ کتنی طلاقیں  دی۔میں نےکہاکہ ایک دی ہے میری اہلیہ عالمہ  ہےاس نےفون پر مجھےبتایاکہ میری عدت تین  ماہواریاں گزرچکی ہیں۔اس کےعلاوہ تقریباًایک سال قبل کسی بات پرمیں نے اسےماراجس سےوہ ڈرگئی اورگاؤں نہیں جارہی تھی(اس وقت رہائش لاہور میں تھی) تومیں نےاسےگاؤں جانے پرآمادہ کرتےہوئےیہ الفاظ کہے:اگرمیں نےتجھےادھر مارا توتجھےتین طلاق؟اس کےبعد وہ گاؤں نہیں گئی بلکہ اپنےمیکےچلی گئی اور وہاں سےابھی تک واپس نہیں آئی اوراسی دوران مذکورہ فون پرطلاق کاواقعہ پیش آیا ۔ اب معلوم یہ کرناہے:1۔کہ اس صورتِ حال میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟آیامیں اس کےساتھ دوبارہ نکاح کرسکتاہوں یا نہیں؟2۔اگر میں اس کو گاؤں لےجاتا ہوں اورکبھی خدانخواستہ اس کومارلیتاہوں توکتنی طلاقیں واقع ہوں گئی اور کیاحکم ہوگا؟

جواب

سوال میں ذِکرکردہ صورت اگرحقیقت پرمبنی ہےتواس صور ت میں آپ کی بیوی پرایک طلاق رجعی واقع ہوگئی،مگرآپ نےعدت میں رجوع نہیں کیاتوعدت گذرنےکےبعدنکاح ختم ہوگیا۔اب اگر دوبارہ نکاح کرناچاہیں تونئےمہر کےساتھ نکاح کرسکتےہیں۔البتہ!یہ واضح رہےکہ آئندہ کےلئےآپ کےپاس صرف دوطلاقوں کاحق باقی رہے گا۔
      نکاح کےبعدمستقبل میں اگرکبھی بھی آپ نےگاؤں میں بیوی کوماراتوطلاقِ مغلظہ واقع ہو جائے گی۔ البتہ اس سےاحترازکےلئےیہ صورت اختیارکی جاسکتی ہےکہ عدت گذرنےکےبعد نکاح کرنےسے پہلےگاؤں میں جاکراپنی بیوی کوایک دفعہ مارکراپنی شرط پوری کرلیں اوراس شرط کےپورا ہونےکی بعدنکاح کرلیں۔اس کےبعداگرآئندہ کبھی بیوی کوگاؤں میں مارنےکی نوبت آئی  تومزیدطلاقیں واقع نہیں ہوں گی۔

 

 

 

الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ)(2/545)رشيدية
فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها۔
 شرح الوقاية،صدر الشريعة عبيد الله بن مسعود(م:747هـ)(4/341) كتاب الطلاق، باب الحلف بالطلاق
 فإن قال: إن دخلت الدار فأنت طالق ثلاثا، فأراد أن تدخل الدار من غير أن يقع الثلاث، فحيلته أن يطلقها واحدة، وتنقضى العدة، فتدخل الدار حتى يبطل اليمين، ولا يقع الثلاث، ثم يتزوجها، فإن دخلت الدار لا يقع شيء لبطلان اليمين. (وكذا في  مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،شيخي زاده عبد الرحمن بن محمد (م:1078هـ)،(1/421) كتاب الطلاق، باب تعليق الطلاق)۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس