بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہرنےبیوی کوکہا”آج سے میراتیرا رشتہ ختم ” نکاح باقی ہے یاختم ہوگیا

سوال

میرےشوہرکا رویہ میرےساتھ شروع ہی سےبُرا رہا، اورچھوٹی چھوٹی باتوں پرتنگ کرتا ہے،اوراس کی وجہ سےمیری زندگی تنگ ہوگئی ہے، ہروقت ایک ہی بات کہتاکہ آج سےمیراتیرا رشتہ ختم ، پھرکہتاکہ میرامقصد ان الفاظ سےطلاق دینانہیں کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوجائی گی یانہیں؟

جواب

سوال میں مذکور صورتِ حال اگرواقع کے مطابق ہے تو شوہرکے یہ الفاظ’’آج سے میراتیرا رشتہ ختم‘‘ الفاظِ کنایات میں سے ہیں ، ان الفاظ سے طلاق واقع ہونے کا دارومدار شوہرکی نیت پرہے ، اگرشوہرطلاق کی نیت سے یہ الفاظ کہے توطلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے اور اگر یہ الفاظ کہتے ہوئے شوہرکی نیت طلاق دینے کی نہ ہو تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، مذکورہ صورت میں شوہرکے بقول یہ الفاظ کہتے وقت اس کی نیت طلاق کی نہیں ہوتی تھی اس لئے طلاق واقع ہونے کاحکم نہیں لگایاجاسکتا۔تاہم سوال میں جوحالات مذکور ہیں وہ بہت پریشان کن ہیں ، ان حالات پر اگر آپ صبرکرتی رہیں توامید ہے کہ اللہ کے ہاں اجرملے گالیکن اگر آپ کے لئے صبرکرنا ممکن نہ ہوتو ایسے حالات میں شوہر کی رضامندی سے طلاق یا خلع لینے کی شرعاً اجازت ہے۔
الفتاوى الهندية(1/375)دار الفكر
ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى۔
 الدر المختار،العلامةعلاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(3 / 282)سعيد
 لست لك بزوج أو لست لي بامرأة.أو قالت له لست لي بزوج فقال صدقت طلاق إن نواه خلافا لهما۔
           رد المحتار، العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(3 / 283)سعيد
 (قوله طلاق إن نواه) لأن الجملة تصلح لإنشاء الطلاق كما تصلح لإنكاره فيتعين الأول بالنية وقيد. بالنية لأنه لا يقع بدونها اتفاقا لكونه من الكنايات۔
           مجمع الأنهر،عبد الرحمن بن محمد(م: 1078هـ)(1/ 402)دارإحياء التراث
 ولهذا لا يقع الطلاق بالكنايات قضاء (إلا بنية) أي بنية الزوج، أو الطلاق مضافا إلى الفاعل، أو المفعول (أو دلالة حال)لأنها غير موضوعة للطلاق بل موضوعة لما هو أعم منه والمراد بدلالة الحال الحالة الظاهرة المفيدة لمقصوده وفيه إشارة إلى أن الكنايات غير مؤثرة بدون النية ودلالة الحال۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس