تقسیم میراث کا نقشہ حسبِ ذیل ہے
مسئلہ4تصـ 44 مضـ 11
| شوہر | بيٹے(3) | بيٹیاں(5) |
| ربع | عصبہ | |
| 1 | 3 | |
| 11 | 33 | |
| حصہ فی بیٹا6= | حصہ فی بیٹی3= | |
جواب نمبر ۲۔ مرحوم عبد الرشید نے اپنے انتقال کے وقت جو کچھ مال وجائیدادچھوڑی وہ اور جو جمیلہ اختر صاحبہ کےترکہ میں سےمرحوم عبد الرشیدکاحصہ بنتاہے وہ سب کچھ ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کےکفن ودفن کےمتوسط اخراجات نکالےجائیں گےاس کےبعددیکھیں گےکہ اگرمرحوم کےذمہ کسی کاقرض واجب الاداء ہوتووہ اداکیاجائےگاپھردیکھیں گےکہ مرحوم نےکسی غیرِوارث کےلئےکوئی جائزوصیت کی ہوتوایک تہائی کی حدتک اسےاداکیاجائےگا۔ان تینوں حقوق کی ادائیگی کےبعد باقی ماندہ مال میں سے ہر بیٹے کو دو ، دو (2،2) حصے اور ہر بیٹی کو ایک ایک (1،1) حصہ دیاجائے۔
تقسیمِ میراث کا نقشہ حسبِ ذیل ہے
مسئلہ17
| بیٹے(4) | بیٹیاں (9) |
| عصبہ | |
| 8 | 9 |
| حصہ فی بیٹا2= | حصہ فی بیٹی1= |
ملحوظہ: واضح رہے کہ عبد الرشید نے فروخت شدہ مکان کی جورقم پہلی بیوی کےبیٹےکو ہبہ کرکےدی وہ اسی کاحق ہےباقی ورثاء کا اس میں حق نہیں ہے۔