بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہر، 3بیٹوں اور5 بیٹیوں میں تقسیم میراث کےبعدشوہر کے4بیٹوں اور 9بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ عبدالرشید مرحوم  صاحب نےدوشادیاں کی تھیں،پہلی بیوی سےایک بیٹا،4بیٹیاں   اوردوسری بیوی)جمیلہ اختر صاحبہ(سے3بیٹے،5 بیٹیاں ہیں ۔ مرحوم نےاپنی زندگی میں مکان بیچ کرپہلی بیوی کےبڑےبیٹےکودےدیا، اب مرحوم عبد الرشیدصاحب کی دونوں بیویاں بھی وفات پاچکی ہیں جبکہ ان کی اولادزندہ ہے۔دریافت طلب امر یہ ہےکہ ایک مکان ہےجومرحوم کی دوسری زوجہ)جمیلہ اختر صاحبہ( کاذاتی مکان ہے درانحالیکہ اِسی مالکِ مکان زوجہ کاانتقال مرحوم کی زندگی ہی میں ہوگیاتھا۔کیاعبدالرشیدصاحب مرحوم اپنی مرحومہ زوجہ کےاس مکان کےحصہ داربنیں گےیانہیں؟اگرمرحوم حصہ داربنیں گےتوان کےکن کن ورثاء کواِس مکان کاحصہ ملےگا؟
تنقیح:         نمبر ۱۔جس زوجہ کامرحوم کی زندگی میں انتقال ہوا ان کےشرعی ورثاءکون کون سےہیں؟
نمبر ۲۔مرحوم عبدالرشیدکےورثاء؟
نمبر ۳۔ہبہ کی کیاصورت ہوئی مکان بیٹےکوفروخت کیایااس کی رقم بیٹےکومالک  بناکردی؟
جواب تنقیح: نمبر ۱۔جمیلہ اخترصاحبہ کی زندگی میں ان کےوالدین انتقال کرچکےتھے۔
نمبر ۲۔عبد الرشیدصاحب کی زندگی میں دونوں بیویاں فوت ہوگئی تھیں والدین بھی پہلےانتقال کرچکےتھے۔
نمبر ۳۔نقدرقم بیٹےکودیدی مکان کسی تیسرےآدمی کوفروخت کردیا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ جمیلہ اختر صاحبہ نے اپنےانتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ مال وجائیداد،منقولہ غیرمنقولہ،مکان،سوناچاندی،مالِ تجارت،کپڑےبرتن،نقدی اوردیگر گھریلو ساز وسامان چھوڑاہے وہ سب مرحومہ کاترکہ ہے،اگرمرحومہ کےذمّہ کسی کاقرض واجب الاداءہوتومذکورہ ترکہ میں سےسب سےپہلےقرض اداکیا جائےگااس کےبعددیکھیں گےکہ اگرمرحومہ نےکسی غیرِوارث کےلئےکوئی  جائزوصیت کی ہوتوباقی ماندہ ترکہ کےایک تہائی کی حدتک اسےاداکیاجائےگااس کےبعدباقی ماندہ ترکہ کےکل چوالیس(44)حصےکرکےشوہرکوگیارہ (11)حصے، ہربیٹےکوچھ،چھ(6،6)اورہربیٹی کوتین، تین(3،3)حصے دیئےجائیں گے۔

تقسیم میراث  کا نقشہ حسبِ ذیل   ہے

              مسئلہ4تصـ 44                                                   مضـ 11

شوہر بيٹے(3) بيٹیاں(5)
ربع عصبہ
1 3
11 33
حصہ فی بیٹا6= حصہ فی بیٹی3=

جواب نمبر ۲۔ مرحوم عبد الرشید نے اپنے انتقال  کے  وقت جو  کچھ  مال  وجائیدادچھوڑی وہ اور جو جمیلہ اختر صاحبہ کےترکہ میں  سےمرحوم عبد الرشیدکاحصہ بنتاہے وہ سب کچھ ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے  پہلے مرحوم کےکفن ودفن  کےمتوسط اخراجات نکالےجائیں گےاس کےبعددیکھیں گےکہ اگرمرحوم کےذمہ کسی  کاقرض واجب الاداء ہوتووہ  اداکیاجائےگاپھردیکھیں گےکہ مرحوم نےکسی غیرِوارث کےلئےکوئی جائزوصیت کی ہوتوایک تہائی کی حدتک اسےاداکیاجائےگا۔ان  تینوں حقوق کی ادائیگی کےبعد باقی  ماندہ  مال  میں سے  ہر  بیٹے  کو دو ، دو (2،2) حصے  اور ہر  بیٹی  کو  ایک  ایک (1،1) حصہ  دیاجائے۔

تقسیمِ  میراث  کا  نقشہ  حسبِ  ذیل   ہے

مسئلہ17

بیٹے(4) بیٹیاں (9)
                                عصبہ
8 9
حصہ فی بیٹا2= حصہ فی بیٹی1=

  ملحوظہ: واضح رہے کہ عبد الرشید نے فروخت شدہ مکان کی جورقم پہلی بیوی کےبیٹےکو  ہبہ کرکےدی  وہ اسی کاحق  ہےباقی ورثاء کا اس میں حق نہیں ہے۔   

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس