بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہر،بیٹےاوربیٹیوں کےدرمیان تقسیمِ میراث

سوال

میری والدہ محترمہ (سارہ )وفات پاچکی ہیں، وفات کےوقت ان کےدرجہ ذیل ورثاءزندہ تھے۔ 1- شوہرامان اللہ، 2- بیٹامحمدعمرمیر،3- بیٹامنیب احمدمیر،4- بیٹی ثمرہ زاہد،5- بیٹی صائمہ آصف ۔ مندرجہ بالا ورثاء میں وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب

آپ کی والدہ کےترکہ میں سےحقوق مقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کےبعدان کےترکہ کی تقسیم اس طرح کی جائےکہ اس کےکل 8مساوی حصےکرکےان میں سےدو(2)امان اللہ کو،دو(2)منیب احمدمیرکو اور دو(2)محمدعمرمیرکو،ایک(1) ثمرہ زاہدکو،اورایک (1)صائمہ آصف کودیدیں۔
الدر المختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(6/ 770)سعيد
 (والربع للزوج) فأكثركمالوادعى رجلان فأكثرنكاح ميتة وبرهناولم تكن في بيت واحدمنهماولادخل بهافإنهم يقسمون ميراث زوج واحدلعدم الأولوية(مع أحدهما) أي الولد أو ولد الابن (والنصف له عند عدمهما) فللزوج حالتان النصف والربع. واللہ خیرالوارثین۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس