بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شریک ِ جائیداد کو مشاعا ہبہ کرنا

سوال

کیا یہ بات درست ہے کہ ہبہ المشاع اس وقت فاسد ہوتا ہے جب اجنبی کو کیا جائے؟ لیکن شریک جائیداد کو ہبہ بدون تقسیم بھی صحیح ہے۔

جواب

واضح رہے کہ قابلِ تقسیم اشیاء کے ہبہ میں اصل اور مختار قول یہی ہے کہ ان کو تقسیم کر کے ، تمام تصرفات سے خالی کر کے موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا جا رہا ہے ) کو مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ میں دے دے ،چاہے شریک کو ہبہ کرے یا غیر شریک(اجنبی) کو ۔(فتاویٰ رحیمیہ:۳۱۷،۹)
علامہ ظفر احمد عثمانی ؒ نے شریک کو مشاعاً (بغیر تقسیم کیے ) ہبہ کرنے کے جواز کی جو گنجائش دی ہے وہ اس صورت میں ہے جب اس کا متبادل نہ ہو اور راجح قول پر عمل کرنے میں شدید دشواری ہو ۔جیسا کہ سوال کی روشنی میں خود حضرت نے اسی فتویٰ میں متبادل ذکر بھی کیا ہے کہ” واہب (ہبہ کرنے والا) ہبہ کے بجائے وہ چیز موہوب لہ ( جس کو ہبہ کیا جا رہا ہے ) کو فروخت کردے اور اس کا ثمن معاف کردے یا واہب یو ں کر لے کہ ثمن اتنا کم رکھے کہ جس کو موہوب لہ با آسانی ادا کر دے” ۔(امداد الاحکام:۳۸،۴)
چونکہ آپ کے سوال میں بہنوں کی میراث کے حوالے سے استفسار کیا گیا ہے جس میں بہنوں نے اپنے وراثتی حصہ پر قبضہ کیے بغیر وہ حصہ بھائیوں کے نام منتقل کر دیا تو اس میں دو باتیں محلِ نظر ہیں :
پہلی بات یہ کہ ہمارے معاشرے میں بہنوں کو میراث نہ دینے کا عام رواج چل پڑا ہے ،بھائی کسی نہ کسی بہانے کے ذریعے بہنوں سے ان کاحصہ اپنے نام کرا لیتے ہیں اور بہنیں معاشرتی دباؤ یا شرما شرمی میں اپنا حصہ چھوڑ دیتی ہیں ۔ لہذا یہ طریقہ کار شرعاً ہر گز درست نہیں ۔(لعدم طیب خاطرھن)
دوسری بات یہ ہے کہ واہب کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیز موہوب لہ کے قبضہ میں دے جبکہ یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ وراثتی حصہ خود بہنوں کے اپنے قبضہ میں ہی نہیں آیا تو آگے بھائیوں کو حصہ دینا مزید مستبعد ہو جائے گا ۔
لہذا اس تمام صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری رائے کے مطابق اس طرح ہبہ کرنا شرعاً درست نہیں ، اور مذکورہ صورت میں مرجوح قول پر فتویٰ یا اس کے مطابق مشورہ دینا کسی معقول وجہ نہ ہونے کی بناء پر درست معلوم نہیں ہوتا۔
الدر المختار (5/ 688):
و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول)
الدر المختار (5/ 690)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل…(محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقى منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين لأنها (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه.
قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار (8/ 208)
وفيها: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ.واللہ اعلم

عورت كا اپنے زيورات شوہركی اجازت كےبغیر صدقہ یا ہبہ کرنے کا حکم ؟/عورت کو رخصتی سے پہلے سسرال کی طرف سے ملنے والے زیورات کاحکم ؟/کیا شوہر ایک بیوی کو اپنی دوسری بیوی کی خدمت پر مجبور کر سکتا ہے ؟/شوہر کے ظلم کرنے کی صورت میں بیوی خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے یا نہیں ؟/دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی ضروری ہے؟

تفصیل۔۔۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس