بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شام کے کھانے کے وقت کے حوالے سے حدیث کی تحقیق

سوال

اس حدیث کی تصدیق فرمادیں کیایہ صحیح ہے؟ حدیث:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! شام کاکھاناحاضرکیاجائےتومغرب کی نمازسےپہلے کھالو۔( بخاری حدیث نمبر۶۷۲)
اسلام میں دووقت کھاناکھانے کاذکر ہے،صبح اورشام، شام کاکھانامغرب سےپہلے کھا لیناچاہئےرات کے کھانےکاذکر نہیں ہے۔چرندپرنداورجانوربھی سورج غروب کے بعدکھانانہیں کھاتے،اس روٹین سے انسان بہت ساری بیماریوں سےبچ جاتاہے۔

جواب

حدیث کی تحقیق

سوال میں مذکورہ حدیث سنداًصحیح ہے ،امام طحاوی نے اس کی تشریح اس طرح کی ہے کہ کسی کاروزہ ہواورشام کاکھاناآجائےتوپہلےافطاری کرلےتاکہ نمازمیں خشوع باقی رہے،اس سےیہ لازم نہیں آتاکہ شام کاکھانامغرب سےپہلےضروری ہے۔
صحيح البخاري (1/ ۹۲)محمودیۃ
باب: إذا حضر الطعام وأقيمت الصلاة: وكان ابن عمر: «يبدأ بالعَشاء» وقال أبو الدرداء: من فقه المرء  إقباله على حاجته حتى يقبل على صلاته وقلبه فارغ
عن أنس بن مالك: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا قدم العَشاء، فابدءوا به قبل أن تصلوا صلاة المغرب، ولا تعجلوا عن عَشائكم
كنزالعمال(7/8105)
عن عمر قال: إذاوضع العَشاءوأقيمت الصلوة فابدؤوابالعَشاء.  وفي مشكل الآثارأنه في حق الصائم، وفي صلوة المغرب خاصة، وكان يعمل به ابن عمر، لكونه كثير الصيام، قليل الإفطار
لامع الدراري(1/253)سعيد
وحمل الطحاوي في مشكل الآثار روايات الباب على الصائم؛ إذ قال أبوجعفر: وقد وجدنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه إنماقصد به أهل الصوم لامن سواهم، ثم أخرج بسنده إلى أنس يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:إذاأقيمت الصلوة واحدكم صائم فاليبدأبالعَشاءقبل صلوة المغرب ولاتعجلواعن عَشائكم
کذافي درس ترمذي(2/118)دارالعلوم کراچی 
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس