بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شادی میں ڈھول ،دف اور بینڈ باجے بجانا

سوال

شادی یا نکاح وغیرہ میں  یا کسی خوشی کی تقریبات پر بینڈ باجے  یا ڈھول وغیرہ کا بجانا جائز ہے یا ناجائز؟ اسی طرح نکاح یا شادی پر دف وغیرہ بجانا کیسا ہے ؟

جواب

 اول تو ڈھول(طبل) اور دف کے درمیان فرق سمجھ لینا چاہیے کہ عموماً ڈھول دونوں طرف سے بجایا جاتا ہے جبکہ دف ایک طرف سے بجتا ہے  ڈھول کا بجانا کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ اور شادی کے موقع پر دف کی اجازت کی غرض اعلان ہے  اور اگر مقصود اس کے بغیر حاصل ہو جائے تو اس کی ضرورت نہیں رہتی۔
لہٰذا اگر اعلان و تشہیر یا اظہار خوشی کے لیے بجانا بھی چاہیں تو مروجہ طریقوں کے مطابق مرد و عورت کے لیے نہ ڈھول ،باجے  کی اجازت ہے اور نہ دف کی، البتہ بچیاں دھپڑی جو کہ دف کا مصداق ہے کچھ دیر کے لیے اس شرط کے ساتھ بجا سکتی ہے کہ جلاجل (گھنٹی کے مثل آواز ) اور ہیئت تطرب(جھومنے کے طریقے ) پر نہ ہو۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(5/ 482)ایچ۔ایم۔سعید
(قوله ضرب الدف فيه) جواز ضرب الدف فيه خاص بالنساء لما في البحر عن المعراج بعد ذكره أنه مباح في النكاح وما في معناه من حادث سرور. قال: وهو مكروه للرجال على كل حال للتشبه بالنساء۔
رد المحتار، ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (6/ 350) ایچ۔ایم۔سعید:
وعن الحسن لا بأس بالدف في العرس ليشتهر. وفي السراجية هذا إذا لم يكن له جلاجل ولم يضرب على هيئة التطرب۔
:غیاث اللغات مع منتخب اللغات(ص:277)حقانیۃ
دف:بالفتح و تشدید فاء ، پہلو از ہر چیز یار وے ان وسازی است معروف۔
:غیاث اللغات مع منتخب اللغات(ص:427)حقانیۃ
طبل:نقارہ کہ می نواز ند وان  را یک طرف  پوست و گاہی دو طرف نیز میگیرند۔
: صحيح البخاري،محمد بن اسماعیل(م:256ھ)(2/570)محمودیۃ
عن الربيع بنت معوذ، قالت: دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم غداة بني علي، فجلس على فراشي كمجلسك مني، وجويريات يضربن بالدف، يندبن من قتل من آبائهن يوم بدر، حتى قالت جارية: وفينا نبي يعلم ما في غد. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تقولي هكذا وقولي ما كنت تقولين»۔
: مرقاة المفاتيح،علی بن سلطان(م:1014ھ)(6/210)امدادیۃ
(فجعلت) أي: شرعت (جويريات لنا) بالتصغير قيل: المراد بهن بنات الأنصار لا المملوكات۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس