سید کا زکوۃ لینا جائز نہیں اگر سید غریب اور محتاج ہے تو صاحب حیثیت لوگوں کو چاہیے کہ ہدایا اور تحائف سے ان کی مدد کریں اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھیں یہ عمل باعث اجر اور اس میں حضور ﷺ سے عشق محبت کا اظہار بھی ہے اور خود اللہ کے محبوب ﷺ نے فرمایا کہ یہ زکوۃ صدقات لوگوں کے مال کچیل ہیں جو نہ تو میرے لیے حلال ہے اور نہ ہی آل محمد کے لیے حلال ہے ۔
الصحیح المسلم(1/ 754) بیروت
ثم قال لنا «إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس، وإنها لا تحل لمحمد، ولا لآل محمد۔۔۔الخ
بذل المجہودفی حل سنن ابی داؤد(8/124)رشیدیۃ
عن ابی رافع ان النبیﷺ بعث رجلا علی السدقۃ من بنی مخذوم فقال لابی رافع اصحبنی فاتک تصیب منھا قال حی اتی النبی ﷺ فاسالہ فاتاہ فسالہ فقال(مولی القوم من ایفسھم وانا لا تحل لنا الصدقۃ)
تنویر الابصار مع در المختار(3/350)رشیدیۃ
(ولا الی بنی ھاشم)ولا الی موالیھم وجازت(التطوعات من الصدقات)وغلۃ(الاوقاف لھم۔)
الفتاوی الھندیۃ(1/208)بیروت
ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي – صلى الله عليه وسلم – كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا في الكافي