بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سیاہ خضاب لگانا

سوال

کیا کالی مہندی یا کالے کلر سےسفید بالوں کو کالا کرنا مردوں اور عورتوں کے لیے ناجائز اور حرام ہے؟

جواب

بال سفید ہو جانے کی صورت میں خالص سیاہ رنگ کے خضاب کے علاوہ دیگر رنگوں مثلا خالص سرخ یا سرخی مائل سیاہ خضاب لگانا بلاشبہ جائز بلکہ مستحب ہے۔ البتہ سیاہ خضاب لگانے میں کچھ تفصیل ہے کہ بڑھاپے میں بال سفید ہوجانے کی صورت میں اگر کوئی مجاہد لگائے تاکہ دشمن پر رعب ہو تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر کسی کو دھوکہ دینے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو جوان ظاہر کرنے کے لیے کوئی شخص لگائے تو ناجائز و حرام ہے اور کوئی شخص اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے محض زینت کے طور پر استعمال کرے تو راجح قول کے مطابق مکروہ تحریمی ہے ۔ البتہ اگر بیوی اپنے شوہر کے لیے زینت کے طور پر لگائے تو اسکی گنجائش ہے اسی طرح اگر جوانی میں کسی کے بال وقت سے پہلے سفید ہو گئے ہوں تو اس کے لیے اس عیب کو چھپانے کے لیے سیاہ خضاب لگانے کی گنجائش ہے کیوں کہ یہاں پر کسی قسم کا دھوکہ نہیں ہے۔
:فتح الباري،کتاب الاحادیث الانبیاء(8/619)
ولأبي داود وصححه بن حبان من حديث بن عباس مرفوعا يكون قوم في آخر الزمان يخضبون كحواصل الحمام لا يجدون ريح الجنة وإسناده قوي إلا أنه اختلف في رفعه ووقفه وعلى تقدير ترجيح وقفه فمثله لا يقال بالرأي فحكمه الرفع ولهذا اختار النووي أن الصبغ بالسواد يكره كراهية تحريم وعن الحليمي أن الكراهة خاصة بالرجال دون النساء فيجوز ذلك للمرأة لأجل زوجها۔
:ردالمحتار(6/422)ایچ ایم سعید
(قوله ويكره بالسواد) أي لغير الحرب. قال في الذخيرة: أما الخضاب بالسواد للغزو، ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق وإن ليزين نفسه للنساء فمكروه، وعليه عامة المشايخ۔
:الفتاوی الھندیۃ(5/309)
اتفق المشايخ رحمهم الله تعالى أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة وأنه من سيماء المسلمين وعلاماتهم وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشايخ وبعضهم جوز ذلك من غير كراهة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس