بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سہولت کی خاطر کسی کی پلیٹ میں کھانا ڈالنا

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ دعوت میں عموماً مہمان ایک دوسرے کو کھانے کا کہتے ہیں اور بعض مہمان اپنے ساتھ بیٹھے مہمان کی پلیٹ میں سالن ڈالتے ہیں جبکہ جس مہمان کی پلیٹ میں سالن،چاول وغیرہ ڈالا جاتا ہے وہ اپنی ضرورت کے مطابق کھانا لے چکا ہوتا ہے نتیجۃً بعض وقت پلیٹ میں کھانا پلیٹ میں بچ جاتا ہے اور اس کھانے کے ضائع ہونے کا احتمال وامکان غالب ہوتا ہے ۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ عمل کیا حیثیت وحکم رکھتا ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔

جواب

سہولت کی خاطر یا تکریما ًکسی کی پلیٹ میں اس کی اجازت سے اتنا کھانا ڈالنے میں کوئی حرج نہیں جو اس کی ضرورت اور رغبت کے مطابق ہو البتہ اتنا کھانا نہ ڈالا جائے جس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔
سنن الترمذي (2/2)عشرۃ مبشرۃ:
وكانت أم ولد لسنان بن سلمة، قالت: دخل علينا نبيشة الخير ونحن نأكل في قصعة، فحدثنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من أكل في قصعة ثم لحسها استغفرت له القصعة.
فيض القدير (8/14)دارالحدیث القاھرۃ:
وقال القاضي: معناه أن من أكل فيها ولحسها تواضعا واستكانة وتعظيما لما أنعم الله عليه من رزق وصيانة عن التلف غفر له.
الموسوعة الفقهية(6/ 122)علوم الاسلامیۃ:
وإذا فرغ ضيفه من الطعام ورفع يده قال صاحب الطعام: كل، ويكررها عليه ما لم يتحقق أنه اكتفى منه، ولا يزيد على ثلاث مرات.
الموسوعة الفقهية(6/ 114) علوم الاسلامیۃ:
ومن الأكل ما هو مكروه، وهو ما زاد على الشبع قليلا، فإنه يتضرر به.
رد المحتار(6/ 339)ایچ۔ایم۔سعید:
(قوله وحرام) لأنه إضاعة للمال وإمراض للنفس.
المبسوط للسرخسي (30/ 298)رشیدیۃ:
ثم السرف في الطعام أنواع فمن ذلك الأكل فوق الشبع لقوله – صلى الله عليه وسلم – «ما ملأ ابن آدم وعاء شرا من بطنه فإن كان لا بد فثلث للطعام وثلث للشراب وثلث للنفس».
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس