بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سونے كی بیع ادھاررقم کے بدلے میں کرنا

سوال

نمبر۱۔عرض ہے کہ میں ایک جیولر ہوں  ہم لوگ خالص سونے والے ہیں ،ایک پیس (10تولہ) ادھار خرید لیتے ہیں  اس طرح کہ آج بھاؤ 5000 روپے فی تولہ ہم نے خریدلیا تو 10 تولے( 50،000 )پچاس ہزار روپے  کا بنا  ۔ہم نے طے کر لیا کہ ہم 10 تولے سونا (51،000)اکیاون ہزار روپے کا خرید لیں گے مگر پیسے تھوڑے تھوڑے کر کے دیں گے  وقت کوئی بھی طے نہیں ہے مگر ایک ماہ میں دوچار دن کم یا زیادہ ہم حساب صاف کرکے دوبارہ سونا خرید لیتے ہیں  کیا اس طرح سونا خریدا جا سکتا ہے۔
نمبر۲۔اگر  سونا آج کے بھاؤ سے 50،000 بنتا ہے مگر ہم اس طرح 51،000 کا خرید لیتے ہیں اور ایک ماہ بعد پیسے دیں گے  جو رقم بن گئی ہے رقم وہی رہے گی چاہے بھاؤ کم ہوجائے یا زیادہ  کیا اس طرح مناسب   ہے؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ سونے کی بیع ادھار رقم کے بدلے درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے۔
نمبر۱۔ بیع کے وقت خریدے جانے والے سونے کی قیمت طے ہو جائے اس میں ابہام نہ ہو
نمبر۲۔ادائیگی کی مدت طے کر لی جائے کہ کتنے عرصے میں وہ رقم ادا کرے گا۔
نمبر۳۔مدت ادائیگی سے تاخیر یا جلد ادائیگی پر قیمت میں کمی یا زیادتی مشروط یا معروف نہ ہو۔ اگر مذکورہ شرائط نہ پائی جائے تو بیع جائز نہ ہوگی۔
:الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(4/ 440)ایچ۔ایم۔سعید
وهل للمتولي شراء متاع فوق قيمته ثم بيعه للعمارة ويكون الربح على الوقف؟ الجواب: نعم۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (4/ 440) ایچ۔ایم۔سعید
(قوله: فوق قيمته) أي شراء بثمن مؤجل فوق ما يباع بثمن حال لأن قيمة المؤجل فوق قيمة الحال۔
:الفتاوى الهندية،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی(3/ 3)رشیدیۃ
ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح كبيع شاة من هذا القطيع وبيع شيء بقيمته وبحكم فلان۔
: فقہ البیوع،محمد تقی العثمانی(1/524)معارف القرآن
معلومية الأجل:ويجب لصحته أن يكون الأجلُ معلوماً، فإن كان الأجل فيه جهالةٌ تُفضي إلى النزاع، فسد البيع۔
:فقہ البیوع،محمد تقی العثمانی(1/531)معارف القرآن
وإن زيادة الثمن من أجل الأجل، وإن كان جائزاً عند بداية العقد، ولكن لا تجوز الزيادة عند التخلّف في الأداء، فإنه رباً۔
: المبسوط للسرخسي،محمد بن احمد(490)  (30/ 149)رشیدیۃ
لو باعه بثمن مؤجل في الابتداء يثبت الأجل فكذلك إذا أجله في الثمن في الانتهاء لأن هذا التأجيل يلتحق بأصل العقد بمنزلة الزيادة في الثمن والمثمن بأصل العقد ويصير كالمذكور فيه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس