قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:” اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا“ اس آیت مبارکہ میں “اللہ کی مدد “کرنے سے کیا مراد ہے ؟اور “اللہ کی مدد“ میں کون کون سے اعمال یا امور شامل ہیں؟
اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنا ہے ۔اور اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کی بہت سی صورتیں ہیں مثلاً:
اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب کرنے کے لیے دین کے دشمنوں کے ساتھ زبان قلم اور تلوار سے جہاد کرنا ۔دین کے دلائل کو واضح کرنا اور ان پر ہونے والے شبہات کا ازالہ کرنا، اور اس کے احکام یعنی فرائض ،سنن، حلال اور حرام کی وضاحت کرنا اور ان پر خود عمل کرتے ہوئے دوسروں کو ترغیب دینا ۔دین کی دعوت دینا اور دین کی حفاظت کیلئے جوقربانی مطلوب ہو وہ پیش کرنا۔ جان و مال سے اللہ تعالی ٰکے دین کی مدد کرنا اور اس کی مضبوطی کا باعث بننا اور اس کے راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنا وغیرہ۔الغرض تمام دین کے شعبے اللہ تعالی ٰکی مدد و نصرت میں داخل ہیں۔
تفسير البغوي (4/ 211) دار إحياء التراث العربي -بيروت
يا أيها الذين آمنوا إن تنصروا الله، أي دينه ورسوله، ينصركم، على عدوكم، ويثبت أقدامكم، عند القتال
تفسير الزمخشري (4/ 318) دار الكتاب العربي
يا أيها الذين آمنوا إن تنصروا الله ينصركم ويثبت أقدامكم (7)إن تنصروا دين الله ورسوله ينصركم على عدوكم ويفتح لكم ويثبت أقدامكم في مواطن الحرب أو على محجة الإسلام
تفسير السمرقندي (3/ 299)
فقال يا أيها الذين آمنوا إن تنصروا الله ينصركم يعني: إن تنصروا دين الله بقتال الكفار، ينصركم بالغلبة على أعدائكم ويثبت أقدامكم فلا تزول في الحرب
تفسیر روح البیان(۸/۶۷۵)رشییدیہ
يا أيها الذين آمنوا إن تنصروا الله ؛ أي: دينه ورسوله ينصركم على أعدائكم ويفتح لكم. ويثبت أقدامكم في مواطن الحرب ومواقفها أو على حجة الإسلام. واعلم أن النصرة على وجهين : الأول: نصرة العبد، وذلك بإيضاح دلائل الدين وإزالة شبهة القاصرين وشرح أحكامه، وفرائضه وسننه وحلاله وحرامه والعمل بها، ثم بالغزو والجهاد لإعلاء كلمة الله وقمع أعداء الدين، إما حقيقة كمباشرة المحاربة بنفسه، وإما حكماً بتكثير سواد المجاهدين بالوقوف تحت لوائهم، أو بالدعاء لنصرة المسلمين وخذلان الكافرين، بل يقول : اللهم انصر من نصر الدين واخذل من خذل المسلمين، ثم بالجهاد الأكبر بأن يكون عوناً لله على النفس حتى يصرعها ويقتلها ، فلا يبقى من هواها أثر