بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سودی معاملہ پر گواہ بننا

سوال

ایک مالیاتی ادارہ کسی شخص کو سودی قرض اس شرط پر دیتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص یا دوسرا ادارہ اس بات کی گارنٹی دے کہ اگر قرض لینے والا شخص وقت پر رقم واپس نہیں کرے گا تو گارنٹی دینے والا اس رقم کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوگا، تو کیا اس طرح سودی معاملے میں گارنٹی دینا جائز ہے؟

جواب

سودی معاملے میں گارنٹی دینا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔
تفسير ابن كثير (2/ 12) دار طيبة
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَالْعُدْوَانِ} يَأْمُرُ تَعَالَى عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالْمُعَاوَنَةِ عَلَى فِعْلِ الْخَيْرَاتِ، وَهُوَ الْبَرُّ، وَتَرْكِ الْمُنْكِرَاتِ وَهُوَ التَّقْوَى، وَيَنْهَاهُمْ عَنِ التناصر على الباطل، وَالتَّعَاوُنِ عَلَى الْمَآثِمِ وَالْمَحَارِمِ
شرح النووي على مسلم (11/ 26) دار إحياء التراث العربي
 آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء) هذا تصريح بتحريم كتابة المبايعة بين المترابيين والشهادة عليهما وفيه تحريم الإعانة على الباطل
عمدة القاري (11/ 204) دار إحياء التراث العربي
آكل الربا وموكله، وإنما اشتركا في الإثم، وإن كان الرابح أحدهما لأنهما في الفعل شريكان، وسيأتي في آخر البيوع وفي آخر الطلاق أنه: لعن آكل الربا وموكله
حاشية السندي على سنن ابن ماجه (2/ 40) دار الجيل – بيروت
حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة حدثنا سماك بن حرب قال سمعت عبد الرحمن بن عبد الله يحدث عن عبد الله بن مسعود «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن آكل الربا ومؤكله وشاهديه وكاتبه
قوله: (آكل الربا) أي: آخذه ولو لم يأكل وموكله أي: معطيه إنما لعن الكل لمشاركتهم في الإثم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس