نمبر ۲۔ سودی رقم سےسامان خریدنےکےحوالہ سےتفصیل یہ ہےکہ اگرکسی نےسامان خریدنے سےپہلےسودمیں حاصل شدہ رقم فروخت کنندہ کودی اوراس کےعوض میں کوئی چیزخریدی یاسودمیں حاصل ہونےوالےنوٹ کونکال کردوکاندارسےیہ کہاکہ اس نوٹ کےبدلےمیں فلاں چیزدےدواورپھرسامان کے عوض وہی نوٹ دےدیا توان دونوں صورتوں میں خریدی ہوئی چیزمیں حرمت منتقل ہوجائےگی اوراس کااستعمال جائزنہیں ہوگا۔ اس کےعلاوہ سودی رقم سےخریدی ہوئی تمام صورتوں مثلاًسودی نوٹ دکھاکرشے خریدی اور ادائیگی میں کوئی اورنوٹ دےدیایاسودمیں حاصل شدہ نوٹ دکھائےاورمتعین کئےبغیرمطلقاًپیسوں کے بدلےمیں کوئی چیز خریدی اورادائیگی کےوقت سودمیں حاصل شدہ نوٹ دیدیاتوایسی صورت میں سامان کااستعمال ناجائزنہیں ہوگا،البتہ سودی رقم کواستعمال کرنےکاگناہ کبیرہ ہوگااوروبال اس پرباقی رہےگاجب تک کہ وہ رقم صاحبِ حق کوواپس یااس کی طرف سےفقراء پرخرچ نہ کردی جائے۔