ہماری کمپنی (رابطہ و راہ نما)کمپنی ہے۔ہم اکثر انڈسٹریل رابطہ و راہ نمائی کرتے ہیں۔مختلف ملز کی مشینری،خریدوفروخت اور مالی نظام کی درستگی کرنا ہوتی ہےاور اکثر اوقات بنکوں سے سابقہ لین دین کی ایڈجسمنٹ کے علاوہ مزید رقوم قرضہ جات کی منصوبہ بندی بنا کر دیتی ہے اس کام کی فیس چارج کرتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ
نمبر۱۔کیا یہ فیس ہمارے لیے حلال ہوگی؟
نمبر۲۔کیا اس طرح کسی کمپنی کو سود پر رقم لینے میں امداد قرار پائے گا اور اس طرح فیس چارج کرنا جائز ہوگا؟
سودی قرضہ جات کی ضروریات اور تقاضوں کی مطابق منصوبہ بندی کرنا،تخمینہ لگانا یا سابقہ سود کی ادائیگی کے طریقہ کار کی طرف راہ نمائی کرنا ،سودی معاملات یا ان کی تکمیل میں ایک درجہ تعاون ہونے کی وجہ سے گناہ اور ناجائز ہے اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے، البتہ اگر سوال میں ذکر کردہ دیگر جائز کام زیادہ ہوں اور مذکورہ کام کو ضمناً کرنا پڑتا ہے تو اس صورت میں اجارہ کا معاملہ درست ہوگا لیکن کل اجرت میں سے مذکورہ ناجائز کام کے تناسب سے اس کی اجرت کو صدقہ کر دیا جائے۔نیز متبادل کام کی تلاش جاری رکھیں اور اس وقت تک صدقہ کے عمل کے ساتھ توبہ و استغفار کا بکثرت اہتمام رکھیں۔
الصحيح لمسلم،مسلم بن حجاج(م:261ھ)(5/127)مکتبۃ البشری
عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»۔
قال النووی تحتہ،یحیی بن شرف(م:676ھ)(5/127)مکتبۃ البشری
هذا تصريح بتحريم كتابة المبايعة بين المترابيين والشهادة عليهما وفيه تحريم الإعانة على الباطل۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(6/ 55)ایچ۔ایم۔سعید
(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي)۔