سوال میں ذکر کردہ معاملہ شرعاً جائز نہیں البتہ اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ اس معاملے کو مضاربہ کی بنیاد پر عمل میں لایا جائے جس کی صور ت یہ کہ ایک شخص کی طرف سے سرمایہ ہو جبکہ دوسرے شخص کی طرف سے محنت ہو اور منافع آپس میں فیصد کے لحاظ سے طے کیا جائے، کسی فریق کے لیے کوئی متعین رقم نفع کے طور پر طے کرنا درست نہیں اور اگر نقصان ہوتو اسے حاصل شدہ نفع سے پورا کیا جائے اگر اس سے تلافی نہ ہوسکے تو سرمائے سے پورا کیا جائے اور محنت کرنے والے پر مالی نقصان نہیں آئے گا بشرطیکہ اس نے کوئی کوتاہی نہ کی ہو۔
الھدایۃ (3/200) دار احیاء تراث العربی
ومن شرطھا ان یکون الربح بینھما مشاعا لا یستحق احدھما مسماۃ من الربح۔
مجلۃ الاحکام العدلیۃ (4/332) رشیدیۃ:(1412و1411)
یشترط فی المضاربۃ کشرکۃ العقد کون راس المال معلوماً وتعیین حصۃ العاقدین من الربح جزاً شائعا کالنصف و الثلث… اذالم تکن حصۃ العاقدین من الربح جزاً شائعاً بل تعین لاحدھما من الربح کذا قرشاً فتفسد المضاربۃ۔
رد المختار (5/648) دار الفکر
(قولہ بطل الشرط) کثیر الخسران علی المضارب۔
تبیین الحقائق (5/521) دار الکتب العلمیۃ بیروت
ویبطل الشرط کشرط الضیعۃ علی المضارب …یلزم صاحب المال دون غیرہ۔