بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سحری سے پہلے شرم گاہ میں دوائی رکھنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اگرچہ دوران روزہ خارج ہو

سوال

اگرعورت سحری سے پہلے شرم گاہ میں دوائی رکھ لے اور بعد از سحری دوائی خارج ہو جائے تو روزہ باقی رہے گا یاٹوٹ جائے گا؟

جواب

اگر عورت سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے شرم گاہ میں دوائی رکھ لے تو اس کا روزہ باقی رہے گا اگر چہ رائی روزے کے دوران خارج ہو، البتہ اگر سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد دوائی رکھی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مجموع الفتاوى (۳۲/۲۷۱) بيروت
وسئل – رحمه الله -: عن امرأة تضع معها دواء عند المجامعة، تمنع بذلك نفوذ المني في مجاري الحبل: فهل ذلك جائز حلال أم لا ؟ وهل إذا بقي ذلك الدواء معها بعد الجماع ولم يخرج . يجوز لها الصلاة والصوم بعد الغسل أم لا ؟ فأجاب: أماصومها وصلاتها فصحيحة وإن كان ذلك الدواء في جوفها
فتاوی رحیمیه، کتاب الصوم (۲۵۶/۷) دار الاشاعت

روزه شروع ہونے سے پہلے داخل فرج میں رکھی ہوئی دوا سے روزہ فاسد نہیں ہو گا، ہاں بحالت صوم دوار کھنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

امداد الفتاوی، کتاب الصوم (۲۷۹/۴) نعمانیة

 روز ہ  کی حالت میں رحم میں چھلا چڑھانا  مفسدِ صوم ہے لیکن اگر غیر حالت صوم میں چڑھایا، یا حالتِ صوم داخل بدن باقی رہے تو اس سے روزہ میں کوئی خلل نہیں آتا۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس