بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سحرزدہ شخص کا نشہ کی حالت میں میسج پر تین طلاقیں دینا

سوال

لڑکے کا بیان:ایک شخص پر کالے علم کا پورا پورا اثر ہے، مندرجہ میسج بھی اس کالے علم کی وجہ سے کئے ہوئے ہیں۔پہلی بار میسج اس طرح کیا کہ باتوں باتوں میں اس نے ایک بار طلاق کا لفظ استعمال کیا پھر دوسرے دن اس کی بیوی نے اس کو میسج کیاکہ آپ نے طلاق کا میسج مجھے بھیجا ہے تو اس نے صاف انکار کردیا اور دوبارہ پڑھنے پرحیران اور پریشان ہوگیا کہ یہ لفظ تو میں نے استعمال ہی نہیں کیا اور بیوی سے معافی مانگی تھی ۔ پھر دوماہ بعد اس نے دو میسج وقفے وقفے سے لکھے، پہلے میسج میں دوطلاق دیتاہوں اور دوسرے میسج میں طلاق کا لفظ صرف استعمال کیا ، حسب معمول دونوں میسج کا انکار کیاگیا اور قسم اللہ تعالی کی کھائی کہ میں نے یہ میسج لکھاہی نہیں اور نہ ہی اس بارے میں مجھے پتا ہے کہ کبھی زندگی میں تجھے طلاق دوں گا اور نہ ہی کبھی ہوجائے اس کے گھر والوں نے بھی لڑکے سے پو چاہے کہ کیاتونے اس کو طلاق کا میسج بھیجا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ میں نے ایسی کوئی میسج نہیں لکھا۔
لڑکی کا بیان: بیوی کی طرف سے یہ موقف اختیار کیاگیا ہے کہ کوئی جادو وغیرہ نہیں ہے، بلکہ یہ شخص نشہ کرتاہے اور نشہ کرکے اس نے یہ میسج کئے ہیں اور یہ دھمکی بھی دی ہے کہ “اگر تم میرے پاس آئی تو میں تم سے اپنےبچے چھین لوں گا اور تمہیں اپنے پاس نہیں رکھوں گا” اب وہ اس میسج کا انکار کررہاہے ، حالانکہ خود اس نے میسج ارسال کئے ہیں، لہذا اس بیان کو مد نظر رکھتے ہوئے جواب عنایت کیا جائے۔

جواب

واضح رہے کہ میسج میں طلاق کے الفاظ تحریر کردینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح حرام چیز (مثلاً شراب، چرس وغیرہ ) کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نشے کی حالت میں دی گئی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا شوہر نےخود میسج میں اپنی بیوی کےلئے طلاق کے مذکورہ الفاظ لکھے تھے(جیساکہ شوہر کے اپنے یہ الفاظ ” اگر تم میرے پاس آئی تو میں تم سے اپنےبچے چھین لوں گا اور تمہیں اپنے پاس نہیں رکھوں گا” بھی اس بات کا قرینہ ہیں کہ یہ میسج اس نے خود ہی تحریر کیاہے) تو ان الفاظ کے تحریر کرتے ہی تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے۔ اب ان دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے اکھٹے رہنا شرعًا ناجائز اور حرام ہے۔ لہذا فورًا علیحدگی اختیار کرنی چاہئے۔ عدت کے بعد مذکورہ خاتون آزاد ہے کہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ پھر ہمبستری کے بعد اگر دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ کسی وجہ سے طلاق دیدے تو اس کی عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے نئے مہر کے عوض پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے
البتہ صورتِ مسئولہ میں فریقین کے درمیان اختلاف ہے اس لئے معتبر علماء کی پنچایت میں اس مسئلے کو پیش کر کے فیصلہ کروالیاجائے۔
الفتاوى الهندية(1/ 353) دار الفكر
وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط
الفتاوى الهندية (1/ 378) دار الفكر
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.
الفتاوى الهندية(1/ 353) دار الفكر
وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط
الفتاوى الهندية (1/ 378) دار الفكر
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس