بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سالی سے زنا کرنے کی وجہ سے بیوی سے نکاح کا حکم

سوال

ایک شخص اپنی سالی سے زنا کاری کا مرتکب ہوا، اب اس کی بیوی سے اس کا نکاح باقی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص سالی کے ساتھ زنا کرنےکی وجہ سے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا جس پر توبہ واستغفار لازم ہے اوراس کےلیے آئندہ سالی سے پردہ کا خوب اہتمام کرنا ضروری ہے تاکہ دوبارہ اس کی نوبت نہ آئے۔ تاہم اس شخص کا اپنی بیوی سے نکاح بدستور قائم ہے۔
الدر المختار(3/ 34)سعيد
وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته
رد المحتار(3/ 34)سعيد
(قوله: وفي الخلاصة إلخ) هذا محترز التقييد بالأصول والفروع وقوله: لا يحرم أي لا تثبت حرمة المصاهرة، فالمعنى: لا تحرم حرمة مؤبدة، وإلا فتحرم إلى انقضاء عدة الموطوءة لو بشبهة قال في البحر: لو وطئ أخت امرأة بشبهة تحرم امرأته ما لم تنقض عدة ذات الشبهة، وفي الدراية عن الكامل لو زنى بإحدى الأختين لا يقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى حيضة واستشكله في الفتح ووجهه أنه لا اعتبار لماء الزاني ولذا لو زنت امرأة رجل لم تحرم عليه وجاز له وطؤها عقب الزنا
البحر الرائق (3/ 103)
لو وطئ أخت امرأته بشبهة حيث تحرم امرأته ما لم تنقض عدة ذات الشبهة.وفي الدراية عن الكامل لو زنى بإحدى الأختين لا يقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى حيضة، واستشكله في فتح القدير ولم يبينه، ووجهه: أنه لا اعتبار لماء الزنى ولذا لو زنت امرأة رجل لم تحرم عليه وجاز له وطؤها عقب الزنا
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس