صورتِ مسئولہ میں مرحومہ ساس نےانتقال کےوقت اگروراثین کی وقعی تعدادیہی تھی جوسوال میں ذکرکی گئی ہےتوتین مرحلوں میں تقسیم حسب ِ ذیل طریقہ سےہوگی ۔مرحومہ ساس کی تجہیزوتکفین اورواجب الادا قرض کی ادائیگی کےبعدکل مال کے (12)حصّےکرلئیےجائیں جس میں سےتین بیٹوں میں سےہرایک کودو(2)اورچھ بیٹیوں میں سےہربیٹی کو(1،1)حصّہ دیاجائےگا ۔
تقسیمِ میراث کانقشہ
مسئلہ:12
| بنت(۶) | ابن(۳) |
| عصبہ | عصبہ |
| 6 | 6 |
دوسرےمرحلہ میں امان اللہ کی مرحومہ بیوی ساراکےمال میں سےحقوقِ مقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کےبعدان کواپنی والدہ کی طرف سےوراثت میں ملےہوئےایک حصہ اوران کےاپنےکل مال میں وراثت اس طریقہ سےتقسیم ہوگی کہ شوہرکو(2)حصّےاوردوبیٹوں میں سےہرایک کو(2،2)جبکہ دوبیٹیوں میں سےہرایک بیٹی کو(1،1)حصہ ملےگاالبتہ مرحومہ ساراکی پوتی اروی اپنی دادی کی میراث میں شرعی حصہ دارنہیں ہوگی۔
تقسیمِ میراث کانقشہ
| بنت الابن | بنت (۲) | ابن (۲) | زوج |
| م | عصبہ | ربع | |
| 3 ×2=6 | 1×2=2 | ||
تیسرےمرحلہ میں محمدعمرمرحوم کی وراثت اروی اوران کےوالدکی طرف منتقل ہوگی اوردرج بالا حقوقِ مقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کےبعدمحمدعمرمرحوم کی وراثت کےکل (6)حصّےکرلیےجائیں ،مرحوم کی بیٹی کو(3)اوران کےوالدکوبھی (3)حصّےدیدئیےجائیں۔
تقسیمِ میراث کانقشہ
مسئلہ: 4×2=8
| اب | بنت (۱) |
| سدس مع العصبہ | نصف |
| 1+2=3 | 3 |