بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ساس ،بیوی اور بیٹے کے انتقال کے بعد مرحلہ وار تقسیمِ میراث

سوال

ایک مکان کوئٹہ میں ہے جومیری مرحومہ ساس کےنام ہے، میری ساس کےشوہربہت پہلےانتقال کرچکےتھے۔ اس کےعلاوہ مرحومہ کےسب سے قریبی رشتہ دار فوت ہوچکےہیں۔ نیزمرحومہ نےکوئی وصیت بھی نہیں کی، مرحومہ کےوارثین کی تفصیل درج ذیل ہے۔
ایک بیٹامنور احمد، ماں کی زندگی میں ہی فوت ہوگیاتھا اورتین بیٹےحیات ہیں اورایک بیٹی ساراجومیری بیوی ہےاپنی ماں کےفوت ہونےبعدانتقال کرگئی تھیں،اس کےعلاوہ مرحومہ ساس کی پانچ بیٹیاں حیات ہیں اورمیری بیوی سارا کےوارثین کی تفصیل درج ذیل ہے۔
شوہرامان اللہ جوحیات ہیں، ایک بیٹامنیب احمد اوردوبیٹیاں حیات ہیں اورایک بیٹامحمدعمر اپنی والدہ کی فوتگی کےبعدانتقال کرگیا (اوراس کی ایک 15سالہ بیٹی اروی حیات ہیں) شرعی لحاظ سےوراثت کس طرح تقسیم ہوگی نیزمرحوم بیٹامحمدعمر کی بیٹی اروی کاکوئی حصہ بنتاہےیانہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ ساس نےانتقال کےوقت اگروراثین کی وقعی تعدادیہی تھی جوسوال میں ذکرکی گئی ہےتوتین مرحلوں میں تقسیم حسب ِ ذیل طریقہ سےہوگی ۔مرحومہ ساس  کی تجہیزوتکفین اورواجب الادا قرض کی ادائیگی کےبعدکل مال کے (12)حصّےکرلئیےجائیں جس میں سےتین بیٹوں میں سےہرایک  کودو(2)اورچھ بیٹیوں میں سےہربیٹی کو(1،1)حصّہ دیاجائےگا ۔

تقسیمِ میراث کانقشہ

 مسئلہ:12

بنت(۶) ابن(۳)
عصبہ عصبہ
6 6

 دوسرےمرحلہ میں امان اللہ کی مرحومہ بیوی ساراکےمال میں سےحقوقِ مقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کےبعدان کواپنی والدہ  کی طرف سےوراثت میں ملےہوئےایک حصہ اوران کےاپنےکل مال میں وراثت اس طریقہ سےتقسیم ہوگی کہ شوہرکو(2)حصّےاوردوبیٹوں میں سےہرایک کو(2،2)جبکہ دوبیٹیوں میں سےہرایک بیٹی کو(1،1)حصہ ملےگاالبتہ مرحومہ ساراکی پوتی اروی اپنی دادی کی میراث میں شرعی حصہ دارنہیں ہوگی۔

 تقسیمِ میراث کانقشہ

                        مسئلہ: 4×2=8

بنت الابن بنت (۲) ابن (۲) زوج
م عصبہ ربع
   3 ×2=6     1×2=2

تیسرےمرحلہ میں محمدعمرمرحوم کی وراثت اروی اوران کےوالدکی طرف منتقل ہوگی اوردرج بالا حقوقِ مقدمہ علی المیراث کی  ادائیگی کےبعدمحمدعمرمرحوم کی وراثت کےکل (6)حصّےکرلیےجائیں ،مرحوم کی بیٹی کو(3)اوران کےوالدکوبھی (3)حصّےدیدئیےجائیں۔

تقسیمِ میراث کانقشہ

     مسئلہ: 4×2=8

اب بنت (۱)
سدس مع العصبہ نصف
1+2=3 3
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس