بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زکوۃ کے پیسوں سے کتابیں خرید کر دینا

سوال

زکوۃ کے پیسوں سے بچوں کو کتابیں خرید کردے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

جو لڑکا بالغ ہو اور صاحب نصاب نہ ہو اسی طرح نابالغ بچہ کہ جس کے والد صاحب نصاب نہ ہو ،کو مستحق زکوۃ ہونے کی وجہ سے زکوۃ کے پیسوں سے کتابیں خرید کر مالکانہ حقوق کے ساتھ دینا جائز ہے ۔ اور اس طرح کرنے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
:قال اللہ تعالی
{إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ } [التوبة: 60]
:فی الھندیۃ(1/208)بیروت
ولا یجوز  دفعھا الی ولد الغنی الصغیر۔
: فی الھندیۃ(1/208)بیروت
يجوز صرفها إلى من لا يحل له السؤال إذا لم يملك نصابا، وإن كانت له كتب تساوي مائتي درهم إلا أنه يحتاج إليها للتدريس أو التحفظ أو التصحيح يجوز صرف الزكاة إليه كذا في فتاوى قاضي خان. سواء كانت فقها أو حديثا أو أدبا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس