بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زکوۃ کی رقم مدرسہ کی تعمیر میں لگانا

سوال

جواب

 

ایک شخص مدرسہ تعمیر کر رہا ہے عطیات وغیرہ لوگ دیتے نہیں، ضرورت کی وجہ سے زکوۃ کو تعمیر میں استعمال کرنے کی کوئی جواز کی صورت بتا دیں۔

 

زكوة اوردیگر صدقاتِ واجبہ کی رقم کسی مستحق (غیر صاحب ِنصاب) کو مالک وقابض بنا کر دینا ضروری ہے، یہ رقم مدرسہ کی تعمیر میں خرچ کرنا جائز نہیں ، البتہ اگر مستحق آدمی کو زکوۃ کی رقم مالک و قابض بنا کر دے دی جائے اور وہ اس پر قبضہ کر لے اور یہ سمجھ لے کہ یہ رقم اس کی ہو گئی ، اس کے بعد اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ یا لالچ کے وہ رقم اپنی طرف سے مدرسہ کی تعمیر میں دیدے تو اب اس کا استعمال جائز ہے۔

الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(2/ 344)ایچ۔ایم۔سعید
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(2/ 344)ایچ۔ایم۔سعید
(قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي۔
 البحر الرائق ،ابن نجیم المصری،(م:970)(2/424)رشيدية
والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب كذا في المحيط۔

واللہ اعلم(فتوی نمبر73/1)

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس