بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زکوۃ اور عشر کی رقم مدرسہ کی تعمیر میں خرچ کرنے کا حکم

سوال

عشر اور زکوۃ کا پیسہ مدرسہ کی تعمیر میں لگایا جا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

زکوۃ اور عشر کی رقم کسی مستحق شخص کو مالک و قابض بنا کر دینا ضروری ہے اور یہ رقم مدرسےکی تعمیر میں لگانا جائز نہیں ہے ،البتہ اگر کوئی شخص زکوۃ یا عشر کی رقم مالک و قابض ہونے کی حیثیت سے وصول کرنے کے بعد اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ یا لالچ کے وہ رقم اپنی طرف سے مدرسے کی تعمیر میں دیدے تو یہ جائز اور درست ہے۔(ماخذہ فتاوی عثمانی 2/138،ط:معارف القرآن)
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(2/ 271)ایچ۔ایم۔سعید
وحيلة التكفين بها التصدق على فقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما وكذا في تعمير المسجد۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ) (2/ 344)ایچ۔ایم۔سعید
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)۔
البحر الرائق ،ابن نجیم المصری،(م:970)(2/424)رشيدية
والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب كذا في المحيط۔
  فتح القدیر،ابن الهمام (2/272)(م: 861ه)رشيدية
قوله( لانعدام التمليك وهو الركن)إن اللہ تعالی سماھا صدقۃ ، وحقیقۃالصدقۃ تملیک المال للفقير۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس