جس عورت كا خاوند گم ہو جائے ،اس کے زندہ ہونے یا نہ ہو نے کی خبر نہ ہو ایسی عورت کو زوجہ مفقود کہا جاتا ہے ،اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ اگر عورت خاوند کے بغیر عفت کی زندگی گزار سکے تو گزار لے اور اگر اسے خاوند کے بغیر گناہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو تو وہ قاضی کی عدالت میں جائے اور گواہوں سے ثابت کرے کہ اس کا خاوند گم ہو چکا ہے ،قاضی خاوند کو تلاش کروائے جہاں اس کے ملنے کی امید ہو ،اور جہاں امید کم ہو وہاں ذرائع ابلاغ سے معلوم کروائے اگر تلاش کے تمام ذرائع اختیار کرنے کے باوجود خاوند کی کوئی خبر نہ مل سکے ،عدالت خاوند کے مردہ ہونے کا فیصلہ کرے گی اور عورت چار سال تک انتظار کرے گی اس کے بعد عورت عدالت سے دوبارہ درخواست کرے گی تو عدالت نکاح کو فسخ کر ےگی اور چار ماہ دس دن کی عدت پوری کرے گی اوراگر عورت گناہ میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ ظاہر کرے تو ایسی صورت میں چار سال انتظا ر کرنے کا حکم ضروری نہیں بلکہ یہ دیکھا جائےگا کہ شوہر کے غائب ہونےکے وقت سے اب تک کم ازکم ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے یا نہیں ،اگر گزرچکا ہے تو عدالت مزید مہلت دیے بغیر اس وقت بھی نکاح ختم کر سکتی ہے اسی طرح ا گر گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ تو نہیں لیکن مفقود کا اتنا ما ل موجود نہیں جو ان چار سالوں میں بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی ہو یا بیوی کے لیے مفقود کے مال سے نان و نفقہ حاصل کرنا مشکل ہو تو اس صورت میں اگر نان و نفقہ دیے بغیر کم از کم ایک ماہ گزرا ہو عدالت نکاح ختم کر سکتی ہے ۔ واضح رہے کہ ان آخری دو صورتوں میں عدت وفات کی بجائے عدت طلاق گزارے گی جو عدالت کے فیصلے کے وقت سے شمار ہو گی۔
منح الجليل شرح مختصر خليل (4/ 318)
(فيؤجل) بضم التحتية وفتح الهمز والجيم، المفقود الحر (أربع سنين إن دامت نفقتها) أي زوجة المفقود من ماله ولو غير مدخول بها ولم تدعه للدخول بها قبل غيبته حيث طلبتها الآن واشتراط الدعاء له في وجوب إنفاق الزوج في الحاضر فقط ويكفي في وجوبها في مال الغائب أن لا تظهر الامتناع منه فإن لم تدم نفقتها من ماله فلها التطليق لعدم النفقة بلا تأجيل وكذا إن خشيت على نفسها الزنا فيزاد على دوام نفقتها عدم خشيتها الزنا۔
البحر الرائق (5/ 178)دارالکتب الاسلامی
ولا يفرق بينه وبينها) أي وبين زوجته لقوله – عليه السلام – في امرأة المفقود «إنها امرأته حتى يأتيها البيان» وقول علي – رضي الله عنه – فيها هي امرأة ابتليت فلتصبر حتى يتبين موت أو طلاق۔
الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي (2/ 479)دارالفکر
(فيؤجل الحر أربع سنين إن دامت نفقتها) من ماله وإلا طلق عليه لعدم النفقة (و) يؤجل (العبد نصفها) سنتان (من) حين (العجز عن خبره) بالبحث عنه في الأماكن التي يظن ذهابه إليها من البلدان بأن يرسل الحاكم رسولا بكتاب لحاكم تلك الأماكن مشتمل على صفة الرجل وحرفته ونسبه ليفتش عنه فيها۔