نمبر۱۔ کیا قاضی شریعت کے حساب سے فیصلہ کرتے وقت بنا دونوں کو سنے صرف ایک کی بات سن کر اور صرف بیوی کو بلا کر بنا شوہر کے اور بنا گواہ کے شادی توڑ سکتا ہے؟
نمبر۲۔ کیا کسی کو مجبور کرکے کلمہٴ کفر پڑھایا جائے تو کیا وہ اسلام سے اور شادی سے باہر ہو جاتا ہے؟ مجبوری یہ دکھائی جاتی ہے کہ اگر آپ شوہر کے گھر گئے تو نانا، نانی ماں مرجائیں گے؟
نمبر۱۔ واضح رہے کہ قاضی فیصلہ کرتے وقت میاں بیوی دونوں کو سنے بغیر صرف بیوی کی بات سن کر نکاح ختم نہیں کرسکتاہے۔ البتہ وہ شوہر جو باجود قدرت کے اپنی زوجہ کے حقوق ، نان و نفقہ وغیرہ ادا نہ کرتاہواس صورت میں وہ شخص متعنت کہلائےگا ۔ اور زوجہ متعنت کےلیے سب سے پہلے لازم ہے کہ وہ شوہر سے کسی طرح طلاق یا خلع لےلے، اگر باجود کوشش کے طلاق یا خلع کی کوئی صورت نہ بن سکے تو عورت اپنا مقدمہ کسی قاضی کےپاس لے جائے اور قاضی شرعی شہادت کے ذریعے پوری تحقیق کرے، اگر عورت کا دعویٰ درست ثابت ہوجائے تو قاضی اس شوہرسے کہے گا کہ اپنی زوجہ کے حقوق ادا کرویا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے ۔ اگر شوہر کسی صورت پر بھی عمل نہ کرےتو قاضی فریقین کے نکاح کو فسخ کرسکتاہے ۔ماخذہ حیلہ ناجزہ۔
نمبر۲۔ اگر کسی شخص کو قتل یاکسی عضو کے کاٹنے کی دھمکی دے کر مجبور کیا گیا اور ا س حالت میں اس نے مجبورہوکرکلمہ کفرکہا، لیکن دل سے اپنے ایمان اور اسلام پر ثابت قدم رہا تو وہ نہ اسلام سے خارج ہوتاہےنہ اس کا نکاح ٹوٹتاہے۔
الفتاوى الهندية (1/ 519) بیروت
إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية۔
الفتاوى التاتاخانیہ، کتاب الطلاق ،الخلع (5/ 59)
الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیہا العوض۔
الفتاوى الهندية ، کتاب الاکراہ (5/ 48) بیروت
وإن أكره على الكفر بالله تعالى أو سب النبي – صلى الله عليه وسلم – بقتل أو قطع رخص له إظهار كلمة الكفر والسب، فإن أظهر ذلك وقلبه مطمئن بالإيمان فلا يأثم، وإن صبر حتى قتل كان مثابا، وإن أكره على الكفر والسب بقيد أو حبس أو ضرب لم يكن ذلك إكراها۔