بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زوجہ ، 4 بیٹے،2 بیٹیوں کے درمیان تقسیم میراث

سوال

ايك شخص كے چار(4)بیٹے ،دو(2)بیٹیاں اور ایک بیوی ہے۔وہ آدمی فوت ہوچکا ہے۔اس نے اپنے ترکے میں پراپرٹی(مکان جس کی کل قیمت ایک کروڑ بیس لاکھ ہے)چھوڑا ہے۔اب مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں میت کے ترکہ میں سے حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائگی کے بعد بقیہ مال کے کل اسی(80) حصے کئے جائیں گے۔(بشرطیکہ مذکورہ وارثین کے علاوہ اور کوئی شرعی وارث نہ ہو)اسی حصوں میں سے (10) حصے میت کی بیوی کو دئے جائیں ،ہر بیٹے کو (14)حصے اور ہر بیٹی کو(7) حصے دئے جائیں گے۔لہذا بازاری قیمت کے اعتبار سے درجہ ذیل حصص کے مطابق ہر وارث مذکورہ مکان میں وارث ہوگا۔ تقسیم میراث کا نقشہ حسب ذیل ہے۔

مسئلہ    8          ـ         10تص80                                    مضروب10

2 بیٹیاں 4 بیٹے زوجہ
عصبہ ثمن
7 1

فی بیٹے کا حصہ(14)                             فی بیٹی کا حصہ(7)

کل ترکہ:ایک کروڑ بیس لاکھ(12000000)

بیوی کا حصہ:پندرہ لاکھ(1500000)

ہر بیٹے کا حصہ:اکیس لاکھ(2100000)

ہر بیٹی کا حصہ:دس لاکھ پچاس ہزار(1050000)

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس