مسئلہ:8
| بیوہ | بیٹے3 | بیٹی |
| ثمن | عصبہ | |
| 1 | 7 | |
| فی کس2حصے | ایک حصہ | |
اگر مذکورہ گھر(جو آپ کے بھائی نے اپنے نام کروایا ہے)آپ کے والد نے بقائم حوش و حواس حالت صحت میں اپنے تصرف سے مکمل طور پر فارغ کرکے اس بھائی کو دے دیا تھا اور آپ کے بھائی نے اس پر قبضہ بھی کر لیا تھاتب تو یہ گھر اس کی ملکیت ہے لیکن اگر مذکورہ بالا شرائط نہیں پائی جا رہی تھی اوراس نے صرف رجسٹری اپنے نام کروالی تھی تو پھر وہ گھر بھی والد مرحوم کی میراث میں شامل ہوگا۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ جو شخص کسی کا حق ناجائز طریقے سے دباتا ہے تو قرآن وسنت میں اس کے لیے سخت وعیدیں آئیں ہیں ۔چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص نے کسی کی ایک بالشت برابر زمین ظلما قبضہ کی تو اس کو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری) ایک اور روایت میں ہے کہ جس نے کسی وارث کی میراث کو ہڑپ کرلیا تو قیامت کے دن اللہ تعالی اسکی جنت والی میراث کو ختم کر دے گے۔(مشکاۃ)