عید الاضحٰی کے موقع پر زندہ بکرے کو تول کر خریدنا کیسا ہے ؟اسی طرح زندہ مرغیوں کا خریدنا کیسا ہے؟ہدایہ میں مسئلہ لکھا ہے ” لأن الحيوان لا يوزن عادة ولا يمكن معرفة ثقله بالوزن لأنه يخفف نفسه مرة بصلابته ويثقل أخرى”(باب الربوا) جبکہ دوسری طرف دیکھیں تو دیسی مرغیوں کو زندہ تول کر بیچا جاتا ہے اورعید الاضحٰی کے موقع پر بعض جگہ بھیڑ ،بکریوں کو بھی تولا جاتا ہے۔
جانور کا اپنے آپ کو ہلکا یا بوجھل کرنا یہ یقینی نہیں بلکہ ایک احتمال ہے، اور اگر کسی جگہ یہ احتمال ثابت بھی ہو جائے تو عام طور پر جانور کے اپنے کو ہلکا یا بو جھل کرنے سے اس کے وزن میں زیادہ فرق نہیں آتا، لہذا یہ جہالت یسیرہ ہے اورعام خرید و فروخت کے معاملات میں معمولی سی جہالت کی وجہ سے کسی نے عدمِ جواز کا قول اختیار نہیں کیا، نیز زندہ جانور کو تول کر فروخت کرنے کا عرف عام ہونے کی وجہ سے اس میں نزاع کا بھی احتمال نہیں، اس لیے یہ بیع جائز ہے۔ بشرطیکہ متعین جانور کا فی کلو کے حساب سے نرخ طے کر لیا گیا ہو نیز جانور کا وزن کرنے کے بعد اس کی قیمت بھی متعین کرلی گئی ہو۔