بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زندگی میں ہبہ کرنے کا مسئلہ

سوال

ایک شخص کی دو بیویاں تھیں اس نے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ ان میں سے ایک بیوی کو دے دیا تھا جس نے اس پر بلڈ نگ تعمیر کی ،اب اس بیوی کا انتقال ہواہے اور اس کے ورثاء میں صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی موجود ہیں ، والدین اور شوہر فوت ہو چکے ہیں البتہ ایک سوتیلہ بیٹا اور ایک سو تیلی بیٹی بھی ہے تو کیا یہ سو تیلی اولاد میراث کی حقدار ہوگی؟اور بلڈنگ کا کیا حکم ہے۔

جواب

اگر شوہر نے واقعۃً زمین اپنی ایک بیوی کوہبہ کر کے اس کا قبضہ دےدیا تھا اس صورت میں مذکورہ بلڈنگ ان کی ملکیت تھی؛ لہٰذا ان کے انتقال کے بعدبیوی کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گی کہ حقوق مقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد کل مال کے تین برابر حصے کر کے دو حصے بیٹے کو اور ایک حصہ بیٹی کو دیا جائے۔واضح رہے کہ مرحومہ کا سوتیلہ بیٹا اور بیٹی مرحومہ کے تر کے میں حصہ دار نہیں ہونگے۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088ھ)(5/ 690)سعيد
 (وتتم)الهبة (بالقبض) الكامل(ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لامشغولا بھ) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا  ۔
 دررالحكام شرح غررالأحكام،محمد بن فرامرز(م: 885ہ)(2/218)
قال الإمام حميد الدين ركن الہبة الإيجاب في حق الواہب؛… ثم لا ينفذ ملكہ فيہ إلا بالقبض (الكامل) الممكن في الموہوب والقبض الكامل في المنقول ما يناسبہ وفي العقار ما يناسبہ… (شاغلا لملك الواہب لا مشغولا بہ فتتم) تفريع على قولہ وتتم بالقبض الكامل (بالقبض في مجلسہا) أي في مجلس الہبة… والأصل أن الموہوب متى كان مشغولا بملك الواہب يمنع التسليم فيمنع صحة الہبة ومتى كان شاغلا لا يمتنع التسليم فتصح الہبة۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

6

/

10

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس