بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زندگی میں میں جائيداد تقسیم کرنا

سوال

میری والدہ محترمہ کا انتقال میرے بچپن میں ہوا، جن سے ہم دوبھائی اور دوبہنیں ہیں، جن میں میں سب سے چھوٹا ہوں ، ہمارے والدِ محترم نے دوسری شادی کی جس سے دوبچے(ایک بیٹا اور ایک بیٹی) پیداہوئے،والد صاحب خود بھی ملازمت کرتے ہیں ان کی آمدنی بھی اچھی ہے ، چھوٹے بھائی کے مالی حالات ہم دونوں بھائیوں سے بہت بہتر ہیں ،جب کہ بڑے بھائی مالی اعتبار سے کافی کمزور ہیں، بیمار بھی رہتے ہیں، والد صاحب کے حصہ میں جو دادا کےترکہ سے مکان آیاتھا والد صاحب نے وہ مکان اسی بڑے بھائی کو دے دیاتھا،اور اس کی مرمت اور تعمیر پر خرچہ خودوالد صاحب نے ہی کیاتھا،بڑے بھائی اس مکان میں رہ رہیں ہیں، چھوٹابھائی والد صاحب کے ساتھ ہی رہتاہے جبکہ میں کافی عرصہ سے لاہور شفٹ ہوگیاہوں۔
اب اس وقت والد صاحب اپنی جائیدا دتقسیم کرنا چاہتے ہیں ، ان کا کہنا یہ ہے کہ بڑے بھائی کو تو پہلےہی حصہ دے دیاہےباقی کچھ نہیں دینا،اور جو موجودہ مکان ہےوہ ماشاء اللہ بہت ہی اچھی حالت میں ہے اور قیمتی بھی ہے، والد صاحب نے خود ہی اس کی اندازاً ایک قیمت لگائی ہے جو اس کی حقیقی مالیت سے بہت ہی کم ہے ، اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ نصف کی حقدار ایک والدہ کی اولاد ہے اور نصف کی حقدار دوسری والدہ اوران کی اولادہے۔ اس کے نتیجے میں اپنی جانب سے لگائی گئی قیمت (جوواقعہ میں غیرمنصفانہ ہے )کا نصف ہم تین بہن بھائیوں (دوبہنوں اور ایک بھائی)کو ملے گا، جس کی وجہ سے میرے حصےمیں تقریباً اتنی رقم آرہی ہے جتنی بڑے بھائی کے مکان پر خرچ ہوئی اور اس سے کچھ کم رقم ہر بہن کے حصے میں آرہی ہے ، جبکہ مکان والد صاحب ، سوتیلی والدہ اور چھوٹے بھائی کے استعمال میں رہے گا۔مجھے اس ترتیب کے اعتبارسے تقسیم پر اطمینان نہیں ہے ،اگر میں بات کرتاہوں تو یہ کہتے ہیں کہ آپ کو اس سلسلے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں ، جبکہ مجھے معلوم ہے کہ اگر میں نہیں مطالبہ کرتاتو باقی دونوں بہنوں کابھی حق مارا جائے گا کیونکہ انہوں نے تو بات کرنی نہیں ہے ۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ کیامذکورہ طریقے سے تقسیم شرعی اعتبار سےدرست ہے؟ اگر نہیں تو برائے کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں ۔اور یہ بھی معلوم کرناہے کہ مجھے کس حدتک مطالبہ کا حق ہے یاکوئی حق نہیں؟ اگر میں یہ بات کہتاہوں کہ سب بہن بھائیوں کو برابردیاجائے تو یہ والدکی نافرمانی کے زمرے میں تو نہیں آتا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرآپ کے والد صاحب اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کرنا چاہیں تو شرعاً ایسا کرناان کے لئے جائزہے لیکن شریعت کی روشنی میں یہ میراث نہیں کہلائے گی بلکہ ہبہ(گفٹ) کہلائے گا(کیونکہ شرعاًمیراث کی تقسیم وفات کے بعد ہوتی ہے)لہٰذا اس پر ہبہ کے احکام جاری ہوں گےاور ہبہ کا ایک بنیادی حکم یہ ہے کہ اولادکوبرابردیا جائے،صحیح بخاری شریف بَابُ الهِبَةِ لِلْوَلَدِ میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد مبارک موجود ہے کہ: “اعدلوا بین اولادکم فی العطیۃ”(ترجمہ:ہبہ کے معاملے میں اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو)
پھر صحیح بخاری شریف میں اسی باب میں یہ واقعہ بھی موجود ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو ان کے والد نے ایک غلام ہبہ (گفٹ)کیا، جب حضور ﷺ سے اس کا تذکرہ کیاتو آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیاآپ نے اپنی سب اولاد کو اس طرح کا ہبہ کیاہے، انہوں نے جواب دیاکہ نہیں ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اس کو بھی واپس کرلو۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی معقول وجہ کےبغیر محض دوسروں کاحصہ کم کرنے کی غرض سے کسی ایک بیٹے کو دوسرے سے زیادہ دیناجائزنہیں،گناہ ہے بلکہ سب کوبرابربرابردیاجائےیہاں تک کہ افضل اور بہتریہ ہے کہ بیٹیوں کو بھی بیٹوں کے برابر حصہ دیاجائے اگرچہ میراث کے قاعدے کے مطابق بیٹوں کو بیٹیوں کے مقابلے میں دوگنادینابھی جائزہے ،ہاں اگر کسی بیٹے کو کسی معقول وجہ کی بناء پرمثلاًمالی اعتبار سے کمزور ہونےیازیادہ عیال دارہونے کی وجہ سے زیادہ دے دیں تو اس کی گنجائش ہےاسی طرح اگر کسی کو پہلے کچھ حصہ دیاہواہے تو اس کو کم دینے کی بھی گنجائش ہےلہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے والدصاحب کوچاہیئے کہ اپنا جومال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں اس کی صحیح قیمت لگائیں، محض اندازہ سے قیمت لگانادرست نہیں اور اپنی زندہ بیوی کو آٹھواں حصہ دینے کے بعد بقیہ مال بیٹوں اور بیٹیوں میں برابر تقسیم کر دیں یاپھر بیٹوں کوبیٹیوں سے دوگنادے دیں ،ایسانہ کریں کہ نصف ایک بیوی کی اولاد کودے دیں اور نصف دوسری بیوی اور اس کی اولاد میں تقسیم کردیں نیزاس بات کاخیال رکھنابھی ضروری ہے کہ جس وارث کو جو کچھ دیا جائےاس سے اپناتعلق مکمل طورپرختم کرکےباقاعدہ عملاًتقسیم کرکے مالک وقابض بناکر دیاجائے صرف کاغذات میں نام کرادینایا مشترکہ طور پر دینا کافی نہیں،اس طرح کرنے سے ملکیت منتقل نہیں ہوتی البتہ وہ چیزیں جو تقسیم کرنے سے قابلِ استعمال نہیں رہتیں جیسےچھوٹا گھر ،مشینیں وغیرہ انہیں مشترکہ طور پر ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
آپ اپنےوالد صاحب کوشریعتِ مطہرہ کے حکم سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے درست تقسیم کی درخواست کرسکتے ہیں ،لیکن اس معاملے میں ان کے ادب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
الصحيح لمحمد بن إسماعيل البخاري(م: 256ھ)دارطوق النجاة
وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «اعدلوا بين أولادكم في العطية» وهل للوالد أن يرجع في عطيته… عن النعمان بن بشيرأن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إني نحلت ابني هذا غلاما فقال أكل ولدك نحلت مثله قال لا قال فارجعه۔
تکملة فتح الملهم،الشیخ محمد تقی العثمانی(2/46،48)دارالعلوم کراچی
فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف: ان الوالد ان وهب لاحد ابنائه هبة اکثر من غيره اتفاقا او بسبب علمه او عمله او بره بالوالدين من غير ان يقصد بذلک اضرار الاخرين، لا الجور عليهم، کان جائزا علي قول الجمهور وهو محمل اثار الشيخين وعبد الرحمن بن عوف، اما اذا قصد الوالد الاضرار او تفضيل احد الابناء علي غيره بقصد التفضيل من غيرداعية مجوزة لذلک فانه لايبيحه احد… استعجال لمایکون بعد الموت وحینئذ ینبغی ان یکون سبیله سبیل المیراث. قال العبد الضعیف قد ثبت بما ذکرنا ان مذهب الجمهور فی التسویة بین الذکر والانثیٰ فی حالة الحیاة اقویٰ وارجح من حیث الدلیل، ولکن ربما یخطر بالبال ان هذا فیما قصد فیه الاب العطیة والصلة، واما اذا اراد الرجل ان یقسم املاکه فیما بین اولاده فی حیاته لئلا یقع بینهم نزاع بعد موته، فانه وان کان هبة فی الاصطلاح الفقهی ولکنه فی الحقیقة والمقصود۔
الدرالمختار، العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088ھ)(5/ 696)سعيد
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين،الشامي(م: 1252ھ)(5/696)سعيد
(قوله وعليه الفتوى)أي على قول أبي يوسف:من أن التنصيف بين الذكر و الأنثى أفضل من التثليث الذي هوقول محمد رملي۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس