ہما رے والدین حیا ت ہیں ،ہماری تین بہنیں ہیں اورہم کل چاربھائی تھےجن میں سےایک بھائی بغیر شادی کے فوت ہوگیا تھا اور دوسرےبھائی شادی کے بعد فوت ہو گئے ہیں او ر ان کی اولاد سے ایک بیٹی موجود ہے ،او راب ہم دو بھائی اور تین بہنیں موجود ہیں اور ہما رے والدین کی اپنی محنت اور مز دوری سے خریدی ہوئی کل جائیداد (2) ایکڑاور (10) مرلہ ہے اس کی تقسیم کا شرعی طریقہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ زندگی میں ہر شخص اپنی مملوکہ(تمام منقولہ وغیر منقولہ) جائیداد کا خود مالک ہوتا ہے، جس میں وہ ہر جائز تصرف کرسکتا ہے اور وارثوں میں سے کوئی بھی اس کی زندگی میں اس سے وراثت کے حصہ کا مطالبہ نہیں کرسکتا کیونکہ اسکی صحت والی زندگی میں اس کے مال وجائیداد میں اس کی اولاد وغیرہ کا کوئی حق نہیں ہے،البتہ اگرآپ اپنی خوشی سے اپنی اولاد میں جائیداد یا مال تقسیم کرنا چاہیں تو اس کا بھی آپ کو اختیار ہے، شرعاً کوئی ممانعت نہیں، اور یہ ہبہ کہلائے گا میراث کی تقسیم نہیں کہلائے گی کیونکہ میراث کی تقسیم مرنے کےبعد ہوتی ہے ۔
زندگی میں جائیداد کی تقسیم کی حیثیت ہبہ کی ہے لہٰذا جو شخص اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہےوہ پہلے اپنے لئے حسبِ ضرورت مال و جائیداد وغیرہ رکھ لے تاکہ بعد میں کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے، اس کے بعد کل مال وجائیداد کا آٹھواں حصہ اپنی بیوی کو دے دے اور اس کے بعد جو کچھ بچے اس میں بہتریہ ہے کہ وہ دونوں بیٹوں اور تینوں بیٹیوں میں برابر برابر تقسیم کر دے ،تاہم میراث کے اصول کے پیش نظراگر بیٹوں کو بیٹیوں سے دگنادے دے تو اسکی بھی گنجائش ہےاسی طرح پوتی کوبھی اپنی صوابدید کے مطابق کم یازیادہ حصہ دے سکتاہے۔
واضح رہے کہ چونکہ یہ ہبہ (گفٹ) ہے اور شرعاً ہبہ معتبر ہونے کے لئے ہر ایک کو اس کے حصے پرباقاعدہ اس کا عملی طور پر مالکانہ قبضہ کرادینا ضروری ہے،عملی قبضہ کرائے بغیر محض زبانی یا صرف کاغذات میں نام کرادینے سے یا قابل ِتقسیم اشیاء کو بغیر تقسیم کیے مشترکہ طور پر دینے سے شرعاً ہبہ معتبر نہ ہوگا اور جس کو جو کچھ دیا ہوگا وہ اس کامالک نہیں بنے گا بلکہ وہ چیز بدستور اصل مالک کی ملکیت میں رہے گی اور انتقال کے بعد سب وارثوں میں ميراث کے شرعی قاعدہ کے مطابق تقسیم ہوگی۔
صحيح البخاري،أبوعبدالله محمدبن إسماعيل(م/256ھ)(3/157)دارطوق النجاة
قال النبي صلى الله عليه وسلم اعدلوا بين أولادكم في العطية۔
فيض الباري-(أمالي)محمدأنور شاه الكشميري(م: 1353ھ) (4/49)العلمية
عندنا فيه تفصيل، فان رجح بعضهم علي بعض لمعني صحيح، جاز نحو ان کان بعضهم معتملا والاخر غير معتمل او کان له عيال کثيرة وليست تسعهم نفقته، فلا بأس ان يفضل بعضهم بعضا في المنحة والصلة، کذا ذکره علي القاري وهکذا ينبغي۔
بدائع الصنائع،العلامة علاء الدين،الكاساني(م: 587ھ)(6 / 127)العلمية
وأما كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي محمد الحِصْني۔
الدر المختار،العلامة علاء الدين الحصکفی (م: 1088ھ)(5 / 690)سعيد
( وتتم ) الهبة ( بالقبض ) الكامل ( ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا بھ) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها وإن شاغلا لا۔
الفتاوى الهندية،لجنة العلماء برئاسة نظام الدين البلخي(4 / 392)رشيدية
وإذا وهب لابنه وكتب به على شريكه فما لم يقبض لا يملكه ولو دفع إلى ابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة على التمليك كذا في الملتقط۔
فتاوی قاضی خان، فخرالدین الحسن بن منصور(م/592ھ)(3/132)رشيدية
رجل قال جميع ما أملكه لفلان يكون هبة حتى لا تجوز بدون القبض۔