اگر آپ اپنی زندگی میں مال تقسیم نہیں کرتے تو آپ کی وفات کے بعد آپ کے ترکہ سے تجہیز وتکفین ،ادائیگی قرض اور ثلث مال میں سے وصیت پوری کرنے کے بعد کل مال کے 24 حصے کر کے ،3حصے زندہ بیوی کو ،14حصے بیٹے کو ،7حصے بیٹی کو دیے جائیں گے بشرطیکہ بوقت وفات یہ ورثاء زندہ رہے ۔جو بیوی آپ کی زندگی میں فوت ہو چکی ہے وہ آپ کی وراثت کی حقدار نہیں ہوگی۔
:الفقه الإسلامي وأدلته ، وَهْبَة بن مصطفى الزُّحَيْلِيّ (م:1436ھ) (5/ 4012)رشیدیۃ
لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم، واختلفوا في بيان المراد من التسوية المستحبة.فقال أبو يوسف من الحنفية، والمالكية والشافعية وهو رأي الجمهور:يستحب للأب أن يسوي بين الأولاد ـ الذكور والإناث ـفي العطية۔
:فی البزازیۃ علی ھامش الھندیۃ،محمد بن محمد البزازی(م:827)(6/237)ایچ۔ایم۔سعید
الأفضل فی ھبۃ الابن والبنت التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار۔