بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زندگی میں تقسیم ِجائیدادکی ایک صورت

سوال

ایک شخص اپنی اولادمیں اپنی حیات میں جائیداد،زمین،مکان،دوکان وغیرہ تقسیم کرناچاہتاہے ۔اولاد میں  بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہیں۔تو اس تقسیمِ کار کا شرعی طریقہ کیا ہے؟
تنقیح:     بیوی کوبھی  کچھ  دیں  گےیانہیں؟
جوابِ تنقیح:    بیوی کوباہمی رضامندی سےغنی  ہونےکی وجہ سےکچھ نہیں دیں گے۔اوراولادمیں تقسیم بھی بچوں کی حقیقی والدہ /بیوی کی  مکمل رضامندی  سے  ہورہی  ہے۔

جواب

ہرشخص اپنی زندگی میں اپنی جائیدادکاپوری طرح  مالک ہے،اُسےاختیارہےکہ اپنی جائیدادمیں سےجس کوچاہےاورجتناچاہےدے،مگریہ بات ملحوظ رہےکہ کسی کونقصان پہنچانےکاارادہ نہ ہو؛کیونکہ یہ ظلم اور گناہ ہے،اگراس کاخطرہ ہوتوسب لڑکوں اورلڑکیوں کوبرابردیاجائے،کہ وہ اولادہونےمیں سب برابر ہیں، قصدًا ضرر نہ ہونےکی صورت میں کسی کےضرورت مندہونےیاکمانےسےعاجزہونےیازیادہ دیندارہونےکی وجہ سے اس کوزیادہ دینامنع نہیں ہے۔واضح رہےکہ جسےجوکچھ دیں وہ کاغذات میں نام کرناکافی نہیں،عملاًقابض  بنانا ضروری  ہے  ۔
الموطأ للإمام مالك بن أنس (م:179هـ)(2/752) دار إحياء التراث العربي
40 – عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، أنها قالت: إن أبا بكر الصديق كان نحلها جاد عشرين وسقا من ماله بالغابة، فلما حضرته الوفاة قال: ” والله يا بنية ما من الناس أحد أحب إلي غنى بعدي منك، ولا أعز علي فقرا بعدي منك، وإني كنت نحلتك جاد عشرين وسقا، فلو كنت جددتيه واحتزتيه كان لك. وإنما هو اليوم مال وارث، وإنما هما أخواك، وأختاك، فاقتسموه على كتاب الله، قالت عائشة، فقلت: يا أبت، والله لو كان كذا وكذا لتركته، إنما هي أسماء، فمن الأخرى؟ فقال أبو بكر: ذو بطن بنت خارجة، أراها جارية “۔
الدر المختار،العلامةعلاء الدين الحصكفي (م:1088هـ)(8/583) رشیدیة کوئتة
وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى۔
رد المحتار،العلامةابن عابدين الشامي (م:1252هـ)(8/583) رشیدیة کوئتة
(قوله وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس