بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زندگی میں تقسیم جائیداد کا طریقہ

سوال

ہمارے والد صاحب نے بیس سال قبل ایک پلاٹ خریدا،ا س کی خریداری میں تعاون کے طور پر بیٹوں نے بھی رقم دی جس میں بڑے بیٹے کی رقم سب سے زیادہ تھی۔ پلاٹ والد صاحب نے بیٹوں کی رہائش تعمیر کرنے کےلئے خریدا تھا، والد صاحب نے یہ فیصلہ کیا کہ اس پلاٹ کے چار حصہ کر کے چار بیٹوں کیلئے رہائش تعمیر کی جائے، چنانچہ پہلے انہوں نے سب سے بڑے بیٹے کےلئے گھر تعمیر کیا، تعمیر کے وقت یہ بات طے تھی کہ گھر بڑے بیٹے کےلئے بنایا جا رہا ہے تعمیر مکمل ہو گئی لیکن رہائش سے پہلے بڑے  بیٹے کا انتقال ہو گیا ان کی وفات کے بعد ان کے بیوی بچے اس مکان میں ایسے رہائش پذیر رہے جیسے اپنے مکان میں رہائش پذیر ہوں ۔
دوسرے نمبر پر دوسرے بیٹے کی نیت سے گھر تعمیر کیا گیا۔ تعمیر کرتے وقت طے تھا کہ یہ دوسرے بیٹے کے لئے بنایا جا رہا ہے تعمیر کے بعد سےآج تک اس مکان میں  دوسرا بیٹا ،والدین اور بہنیں رہائش پذیرہیں۔
تیسرے نمبر پر چھوٹے بیٹے کےلئے مکان تعمیر کیا گیا۔ اس کی تعمیر کے وقت بھی یہ طے تھا کہ یہ گھراس چھوٹے بیٹےکےلئے بنایا جا رہا ہے۔ اس تعمیر کی چھوتی منزل پر مکان تعمیر نہیں ہوا بلکہ وہ چوتھے مکان کی تعمیر کےلئے رکھا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ والد صاحب نے پلاٹ کی خریداری سے لیکر آج تک زبان سے یہ بات نہیں کہیں کہ یہ مکان فلاں  بیٹے  کو میں نے دیدیا اور نہ ہی کسی بیٹے کو یہ کہا کہ یہ مکان تمہارا ہے اس پر قبضہ کر لو  اگر چہ تعمیر کے وقت یہ بات ذہن میں بھی تھی اور لوگوں کو بھی پتہ تھا کہ یہ مکان فلاں بیٹے کےلئے بنایا جارہا ہے خصو صا جب مرحوم بیٹے کی بیوی بچوں کو رہائش دے رہے تھے تویہ نیت تھی  کہ یہ ان کی ملکیت ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہےکہ :نمبر۱۔  مذکورہ تین مکانات اور ایک پلاٹ اِس وقت والد صاحب کی ملک شمار ہوگا یا  جن کے نام یہ متعین کر کے بنائے گئے ہیں ان کی ملکیت تصور ہوگی ؟
نمبر۲۔   اگر والد صاحب کی ملکیت ہو تو کیا وہ پہلا مکان مرحوم بیٹے کی بیوہ اور بچوں کو جبکہ دوسرے دو مکان اور پلاٹ بیٹوں کو ہبہ  کر سکتے ہیں ؟ تمام صورتوں  میں گناہ گار تو نہیں ہوں گے یہ بات یقینی ہے کہ ہبہ  کی وجہ سے بقیہ ورثاء یعنی دو بہنیں ضرور متاثر ہوں گی۔
نمبر ۳۔ والد کے انتقال کے بعد مرحوم بیٹےکی بیٹیوں اور بیوہ کو   والد کی وراثت میں حصہ ملے گا یا نہیں؟
(4) عام طور پر مستورات سے جائیداد میں سےحصہ وراثت کو معاف کروانے کےلئے ان سے بیان دلوایا ہوتا ہے بعض مستورات شرم کی وجہ ی سےیا کسی اور مجبوری سے دے دیتی ہیں  توکیا اس طرح بیان سے ان کا حق ختم ہو جاتا ہے اور نیزا س وجہ  سےبھی  کہ بیٹیاں اب دوسرے گھر چلی گئی ہیں  ان کو حصہ نہیں دیا جاتا  تو کیا یہ درست ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں تین مکانات اور ایک پلاٹ میں سے پہلے مکان میں ہبہ سمجھا جائے گا، اس لیے کہ متعین حصہ موہوب لہم ( مرحوم کی اولاد، بیوی) کے قبضہ میں تملیکا  دے دیاگیا ہے، اگر چہ ہبہ کی کوئی صراحت نہیں، لیکن ظاہر حال و قرینہ ہبہ  پر دلالت کر رہا ہے۔اور ہبہ میں قرینہ بھی کافی ہوتا ہے۔
اور باقی حصوں پر چونکہ ان کو قبضہ نہیں دیا گیا جن کی نیت سے بنایا تھا، اس لیے ان میں  ہبہ مکمل نہیں ہوا وہ والد صاحب کا ہی ہے، اس میں میراث جاری ہوگی۔
نمبر۲۔ جو حصہ والد صاحب کا ہی ہے اگر وہ اپنی زندگی میں اسے تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ لیکن اس میں اولاد کو برابر کا حصہ دیں، بغیر کسی وجہ کے کسی ایک کو زیادہ نہ دیں،البتہ دین داری ،فقر وغیرہ کی وجہ سے زیادہ دے سکتے ہیں۔
نمبر ۳۔ والد کے انتقال کے وقت اگر بیٹے موجود ہوں تو پوتوں کو دادا کی میراث سے کچھ نہیں ملتا  لہذا مذکورہ  صورت میں والد کے انتقال کے وقت اگر بیٹے موجود ہوں تو والد کے مرحوم بیٹے کی بیوی و اولاد کو دادا کی میراث سے کچھ نہ ملے گا۔
نمبر ۴۔ اگر میراث میں  نقد مال اور جائیداد یعنی زمین ،مکان و اشیاء مکان وغیرہ سب طرح کا سامان ہو تو اس صورت میں وارث کے معاف کرنے سے، یا کسی اور کے معاف کرانے سےدیون میں تو معافی معتبر ہو کر حق ختم ہو جائے گا، لیکن اعیان (جائیداد وغیرہ) میں مذکورہ الفاظ سے حق وراثت ختم نہ ہوگا، بلکہ بعد میں بھی مطالبہ کا حق ہوگا، لہذا مذکورہ طریقہ سے اجتناب کرتے ہوئے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ دینا چاہیے، خواہ بیٹیاں دوسرے گھر چلی گئی ہوں اور بیان دلوا کرمعاف کرانا بر ا اور نا مناسب طریقہ ہےاور ہمارے زمانے میں چونکہ یہ بہت عام ہوگیا ہے اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)  (5/ 688)ایچ۔ایم۔سعید
قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك كمن دفع لفقير شيئا وقبضه، ولم يتلفظ واحد منهما بشيء، وكذا يقع في الهداية ونحوها فاحفظه، ومثله ما يدفعه لزوجته أو غيرها قال: وهبت منك هذه العين فقبضها الموهوب له بحضرة الواهب ولم يقل: قبلت، صح لأن القبض في باب الهبة جار مجرى الركن فصار كالقبول ولوالجية.وفي شرح المجمع لابن ملك عن المحيط: لو كان أمره بالقبض حين وهب لا يتقيد بالمجلس ويجوز قبضه بعده۔
:الدر المختارعلاء  الدین الحصکفی(م:1088ھ) (5/ 709)  ایچ۔ایم۔سعید
دفع لابنه مالا ليتصرف فيه ففعل وكثر ذلك فمات الأب إن أعطاه هبة فالكل له، وإلا فميراث وتمامه في جواهر الفتاوى۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)  (5/ 709)  ایچ۔ایم۔سعید
 (قوله: وإلا فميراث) بأن دفع إليه ليعمل للأب۔
:الفقه الإسلامي وأدلته ، وَهْبَة بن مصطفى الزُّحَيْلِيّ (م:1436ھ) (5/ 4012)رشیدیۃ
لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم، واختلفوا في بيان المراد من التسوية المستحبة.فقال أبو يوسف من الحنفية، والمالكية والشافعية وهو رأي الجمهور:يستحب للأب أن يسوي بين الأولاد الذكور والإناث في العطية۔
:فی البزازیۃ علی ھامش الھندیۃ،محمد بن محمد البزازی(م:827ھ)(6/237)ایچ۔ایم۔سعید
الأفضل فی ھبۃ الابن والبنت التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)  (6/ 725) ایچ۔ایم۔سعید
 أن الإبراء عن الأعيان باطل۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)  (5/ 625،624)ایچ۔ایم۔سعید
أجاب فيها بأن البراءة العامة بين الوارثين مانعة من دعوى شيء سابق عليها عينا أو دينا بميراث أو غيره، وحقق ذلك بأن البراءة إما عامة كلا حق أو لا دعوى أو لا خصومة لي قبل فلان، أو هو بريء من حقي أو لا دعوى لي۔۔۔۔۔ وإما خاصة بدين خاص كأبرأته من دين كذا أو عام كأبرأته مما لي عليه، فيبرأ عن كل دين دون العين، وإما خاصة بعين فتصح لنفي الضمان لا الدعوى فيدعي بها على المخاطب وغيره۔۔۔۔۔والبحر عن القنية افترق الزوجان، وأبرأ كل صاحبه عن جميع الدعاوى وللزوج أعيان قائمة لا تبرأ المرأة منها وله الدعوى، لأن الإبراء إنما ينصرف إلى الديون لا الأعيان فمحمول على حصوله بصيغة خاصة۔
:قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علاء الدين أفندي (م: 1306هـ) (7/505)ایچ۔ایم۔سعید
الإرث جبری لا یسقط بالإسقاط۔
: شرح الحموی علی الأشباه والنظائر،أحمد بن محمد الحموی(م:1098) (3/ 48)العلمیۃ
(قوله: لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك). اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما: تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بل إن كان عينا فلا بد من التمليك وإن كان دينا فلا بد من الإبراء۔
:الفتاوى الهندية،لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي (4/ 378)رشيدية
لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار۔
:الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690)ایچ۔ایم۔سعید
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔
:تکملۃ فتح الملھم،مفتی  محمدتقی عثمانی(2/14،15)دار العلوم کراتشی
ثم إن حدیث الباب من أقوی الدلائل علی أن الحفید لا یرث مع الابن،لأن الابن عند وجودہ أولی رجل ذکر ،فیحوز المال،ویحرم الحفید لکونہ أبعد بالنسبۃ إلیہ وھذا ما أجمعت علیہ الأمۃ الإسلامیۃ منذ القرون الأولی۔۔۔۔ والعلامۃ العینی فی عمدۃ القاری:الإجماع علی أن الحفید لا یرث مع الابن۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس