اگرکوئی شخص اپنے گھریلو حالات کی بناپر اپنی صحت کی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان جائیداد وغیرہ تقسیم کرنا چاہےتو شرعاً ایسا کر سکتاہے لیکن واضح رہے کہ یہ میراث نہیں کہلائے گی بلکہ ہبہ(گفٹ) کہلائے گا(کیونکہ شرعاًمیراث کی تقسیم وفات کے بعد ہوتی ہے) اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلےتقسیم کرنے والاشخص اپنی بقیہ زندگی کے لئے بقدرِ ضرور ت مال رکھ لے تا کہ بعد میں کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے ، اس کے بعد بقیہ حصہ بیٹوں اور بیٹیوں میں برابر تقسیم کر دیں، یہ افضل ہےاور اگر میراث کے اصول کے پیشِ نظر بیٹی کو بیٹے کے حصّے سے آدھا دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہےنیزیہاں یہ بات بھی ذہن نشین فرمالیں کہ اگر اولادمیں سےکوئی زیادہ فرمانبرداریاخدمت گزار ہویانیک ہو یاتعلیم میں مشغول ہونےیاعیالدارہونےکی وجہ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو اس صورت میں اس کو دوسروں سے کچھ زیادہ دینا بھی درست ہے، ایسی صورت میں برابری ضروری نہیں ہے، اگرچہ دیگرورثاء کو اس کی وجہ سے ضرر لاحق ہو،کسی معتبر وجہ کے بغیرمحض دوسروں کاحصہ کم کرنےکی غرض سے کسی وارث کو زیادہ دینادرست نہیں ہے،گناہ ہے، لیکن اس بات کاخیال رکھنا ضروری ہے کہ جس کو جو کچھ دیا جائےاس سے ہرنوع کاتعلق ختم کرکےباقاعدہ عملاًتقسیم کرکے مالک وقابض بناکر دیاجائے، صرف کاغذات میں نام کرادینا یا مشترکہ طور پر دینا کافی نہیں، البتہ وہ چیزیں جو تقسیم کرنے سے قابلِ استعمال نہیں رہتیں جیسا چھوٹا گھر،مشینیں وغیرہ انہیں مشترکہ طور پر ہبہ کیا جاسکتا ہے۔