حدیث شریف میں وارث کو وراثت سے محروم کرنے کی سخت وعید وارد ہوئی ہے اس لئے بہتر یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں باپ بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کرے اور جس طریقے سے اس کی اصلاح ممکن ہو اصلاح کی کوشش کرے یا پھر اس کی ایذاؤں پر صبر کرے ۔ لیکن اگر باپ، بیٹے کے ایذ اؤں اور تکالیف سے تنگ آکر اسے عاق کر دے اور وراثت سے محروم کر دے تو اللہ کی ذات سے توقع ہے کہ معاف فرمادیں گے اور باپ گناہ گار نہیں ہوگا۔ البتہ واضح رہے کہ محض زبانی یا تحریری وصیت کرنے سے یا اخبارات میں اشتہار دینے سے بیٹا میراث سے محروم نہیں ہوگا بلکہ اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ باپ اپنی زندگی اور صحت میں اپنا تمام مال و جائیداد اس بیٹے کے علاوہ دوسرے وارثوں یا غیر وار ثوں میں تقسیم کر کے ان کو مالک بنا دے اور اس نافرمان بیٹے کے لئے کچھ نہ چھوڑے۔