ایک شخص کے 5 بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔اس نے اپنی زندگی میں زرعی زمین کا زیا دہ حصہ بیٹوں کے نام لگا دیا جبکہ بیٹی کو 2/1 حصہ کی بجائے کا فی کم دیا ۔انہوں نے اپنی زندگی میں نام تو لگا دی مگر کسی کو قبضہ نہ دیا ،بلکہ تمام عمر خود ہی زمین اپنے قبضہ میں رکھی ،جب ان کی وفات سن 90 ءکی دھائی میں ہوئی تو اس کے بعد زمین ٹھیکہ پر دی گئی اور رقم شریعت کے مطابق آج تک تقسیم ہو رہی ہے یعنی بہن کو 2/1 حصہ ۔اس دوران ایک عدد مکا ن بھی فروخت ہوا اس کی رقم بھی شریعت کے مطا بق یعنی بھائی کا ایک حصہ اور بہن کا 2/1 حصہ ہے ،یہ سب بہن بھائیوں کا متفقہ فیصلہ تھا ۔اب زرعی زمین کا ایک حصہ فروخت ہو رہا ہے ۔زمین میں بھائیو ں کا تھوڑے سے فرق سے تمام کا حصہ برابر ہے جبکہ بہن کا حصہ 2/1 کی بجائے کا فی کم ہے ۔
مذکورہ صورت میں مرحوم نے اپنی زندگی میں زمین تقسیم کر کے با قاعدہ بیٹوں اور بیٹی کے قبضہ میں نہیں دی اس لئے یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا بلکہ مذکورہ زمین مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی اس لئے اس کو وراثت کے شرعی اصولوں کے مطا بق ہی تقسیم کرنا ہوگا ۔ بیٹی کو اس کے شرعی حصے سے محروم کرنا ہر گز جائز نہیں بلکہ حرام ہے اور حرام مال کے اثرات نسلوں میں بھی منتقل ہو تے ہیں، اگر ایسا کیا تو اللہ تعالی کی طرف سے سخت پکڑ کا اندیشہ ہے ۔ واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں بیٹی کواس کا پورا حصہ دینےسے ا للہ کی رحمت سے امید ہے کہ مرحوم کو بھی راحت نصیب ہوگی۔