بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کرنا

سوال

ایک مسئلہ کی طرف راہ نمائی چاہتا ہوں۔ زید کی ملکیت میں ۴ کروڑ کی پراپرٹی ہے زیدنے دو شادیاں کیں ہیں جن میں سے پہلی زوجہ کو طلاق دے دی جبکہ دوسری نکاح میں ہے۔ پہلی زوجہ میں سے ۲ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں جبکہ دوسری زوجہ سے ۱ بیٹا اور ۱ بیٹی ہے۔نیز تمام اولاد بالغ ہے۔ مہربانی فرما کر تمام افراد کے حصے شرع کے تحت راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرزیداپنی صحت والی زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہے تو شریعت کی رُو سے وہ ایسا کر سکتاہے لیکن شرعاً یہ تقسیم ہبہ (گفٹ) کہلائے گی ، نہ کہ میراث۔اور اس کا طریقہ کاریہ ہے کہ زید سب سے پہلے اپنی بقیہ زندگی کے لئے بقدرِ ضرور ت مال رکھ لے تاکہ بعد میں اسے کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے ،اور اپنی بیوی(جو اس وقت اس کے نکاح میں ہے) کو آٹھواں حصہ دے دے، اس کے بعد بقیہ مال دونوں بیویوں کی اولاد( تین بیٹوں اور تین بیٹیوں) میں برابر تقسیم کر دے یعنی بیٹیوں کوبیٹوں کے برابر حصّہ دے اور اگر میراث کے اصول کے پیشِ نظر بیٹیوں کو بیٹوں کے حصّے سے آدھا دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہےنیز اگر کوئی اولاد زیادہ فرمانبردار ہو ، نیک ہو یازیادہ ضرورت مند اور عیال دار ہو یا کوئی بچہ تعلیم میں مشغول ہو تو اس صورت میں اس کو دوسروں سے کچھ زیادہ دینا بھی درست ہے ۔لیکن اس بات کاخیال رکھنا ضروری ہے کہ جس کو جو کچھ دیا جائے باقاعدہ عملاًتقسیم کرکے مالک وقابض بناکر دیاجائے صرف کاغذات میں نام کرادینا یا مشترکہ طور پر دینا کافی نہیں۔
في تکملة فتح الملهم(٢/٧۱)
فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف: ان الوالد  ان وهب لاحد ابنائه هبة اکثر من غيره اتفاقا او بسبب علمه او عمله او بره بالوالدين من غير ان يقصد بذلک اضرار الاخرين، لا الجور عليهم، کان جائزا علي قول الجمهور وهو محمل آثار الشيخين وعبد الرحمن بن عوف، اما اذا قصد الوالد الاضرار او تفضيل احد الابناء علي غيره بقصد التفضيل من غیرداعية مجوزة لذلک فانه لايبيحه احد۔
الدر المختار (5 / 696)
وفي الخانية لابأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالإبن عند الثاني وعليه الفتوى۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس