بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زناسے پیداہونے والے بچے کا ثبوت نسب

سوال

ایک شخص کی شادی ہوئی، لیکن بمشیۃ اللہ کوئی اولاد نہیں ہوئی ،بعدازاں ایک شخص کااس کی بیوی کےپاس آناجاناہوا، شوہرنےاسےمنع نہیں کیا،خود بھی اپنی بیوی کےساتھ ازدواجی تعلقات قائم رکھےاوروہ اجنبی شخص بھی گناہ کا اقرارکرتاہے، اس دوران اس عورت کےدوبچےہوئےاورشوہران بچوں کےبارےمیں اپنی اولاد ہونےسےمنکرنہیں ہے۔ اب اس اجنبی شخص کوتنبہ ہوا اوروہ یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ
نمبر ۱۔ اس گناہ سےپاکی کاکیاطریقہ ہے؟
نمبر۲۔اوران بچوں کانسب کس سےثابت ہے؟

جواب

نمبر۱۔اجنبی شخص پرلازم ہےکہ وہ اپنےاس گناہ پرندامت کےساتھ توبہ واستغفارکرے۔
نمبر۲۔صورتِ مسئلہ میں شرعاًان بچوں کانسب مذکورہ عورت کےشوہرسےثابت ہے۔
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري (م: 256ھـ)(5/ 151 )دار طوق النجاة
قالت عائشة: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الولد للفراش وللعاهر الحجر۔
عمدة القاري، بدرالدين العينى(م: 855هـ)(23/249 )دارإحياءالتراث العربي
قال أصحابنا: الفراش كناية عن الزوج۔
الدر المختار، علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ) (3/ 114تا118 )سعيد
والخلوة مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء بلا مانع حسي كمرض لأحدهما يمنع الوطء وطبعي كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال، وجعله في الأسرار من الحسي، وعليه فليس للطبعي مثال مستقل وشرعي كإحرام لفرض أو نفل… كالوطءفيما يجيء ولو كان الزوج مجبوبا أو عنينا أو خصيا أو خنثى إن ظهر حاله وإلا فنكاحه موقوف… في ثبوت النسب ولو من المجبوب و في تأكد المهر المسمى و مهر المثل بلا تسمية و النفقة والسكنى والعدة وحرمة نكاح أختها وأربع سواها في عدتها۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس