ہماری کمپنی (صانع ) نے بینک (مستصنع) سے اسلامی مالی سہولت کے تحت استصناع کا معاملہ کیا تھا اور بینک نے رقم اداکر کے اس کے بدلے پلاٹ بطور رہن لے لیا ۔”کرونا” کی وبا کی وجہ سے ہم اس ارڈر کو مکمل نہ کر سکے چونکہ رہن والے پلاٹ کی قیمت زیادہ تھی تو اس کا ایک حصہ مشاعاً ہم نے بینک سے لی گئی رقم کے عوض بینک کو ہی فروخت کردیا اور دونوں کے درمیان شرکت ملک قائم ہو گئی اور پھر فریقین نے اجار ہ کا معاملہ کیا کہ کمپنی پورا پلاٹ استعمال کرے گی اور بینک کے حصہ کے شئیرز کا کرایہ کمپنی بینک کو ادا کرے گی۔ اس معاملے کے بعد یہ طے ہوا کہ کمپنی اور بینک دونوں مکمل پلاٹ کو باہمی رضامندی سے تیسری پارٹی کو فروخت کردیں اب فروختگی کی صورت میں تیسری پارٹی کی طرف سے رقم کی ادائیگی میں وقت لگے گا تو بینک نے کہا جتنی تاخیر ہو گی کمپنی اتنی مدت تک بینک کے حصہ کاکرایہ بینک کو ادا کرے ۔
مشكاة المصابيح (2/ 889)
وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه»
مرقاة المفاتيح (5/ 1974)
لا يحل مال امرئ “) أي: مسلم أو ذمي (” إلا بطيب نفس “) أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي
مجلة الأحكام العدلية (ص: 27)
(المادة 97) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي
“درر الحكام في شرح مجلة الأحكام” (1/ 188)
“بيع حصة شائعة معلومة كالثلث والنصف والعشر من عقار مملوك قبل الإفراز صحيح
الفتاوى الهندية (4/ 410)
ومنها الملك والولاية فلا تنفذ إجارة الفضولي لعدم الملك والولاية