خان محمد کے ایک لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔اور وہ دونوں آپس میں شادی کرنے پر رضا مند بھی تھے۔جب لڑکی کے گھر والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے بہت لڑائی کی،اور لڑکی کہیں اور شادی کرا دی۔خان محمد نے بھی دوسری جگہ شادی کر لی۔پھر دونوں کی اولاد ہوئی اور بڑی ہوگئی۔اب خان محمد یہ چاہتا ہے کہ میری شادی تو اس لڑکی سے نہیں ہوئی پر میں اپنے بیٹے کی شادی اس لڑکی کی بیٹی سے کراؤں گا۔تاکہ پرانے تعلقات بحال ہو جائیں۔اب کیا شریعتِ مطہرہ میں ان کی شادی کی گنجائش ہے ۔جب کہ لڑکے کے والد اور لڑکی کی ماں کے آٌپس میں ناجائز تعلقات تھے؟ براہِ کرم اس سوال کا جواب مرحمت فرمائیں۔جزاک اللہ
خان محمد کے بیٹے اور اس لڑکی (جسکے ساتھ خان محمد کے ناجائز تعلقات تھے)کی بیٹی کے درمیان اگر کوئی وجہ حرمت نہیں پائی جاتی تو ان کا آپس میں نکاح درست ہے۔خان محمد اور اس لڑکی کےسابقہ ناجائز تعلقات کی بنا پر ان کی اولاد کے آپس میں نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔البتہ مذکورہ رشتہ داری کے نتیجے میں کسی فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو مذکورہ شادی نہ کرائی جائے تا کہ گناہ اور فساد کا دروازہ نہ کھلے۔
تفسیر المظھری (2/61) رشیدیة
(احل لکم ما وراء ذلکم)یعنی ما سوی المحرمات المذکورات فی الایات السابقة۔
الصحیح للبخاری(کتاب البیوع/باب الحلال بین والحرام بین)
الْمَعَاصِيَ حِمَى اللهِ، َمَنْ يُرْتِعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُواقِعَهُ» ۔
ردالمحتار (2/61) سعید
ویحل اصول الزانی وفروعہ اصول المزنی بھا وفروعھا۔