میرے پاس بیرون ملک کے دو سو ڈالر موجود ہیں میں نے ایک بندے سے بات کی کہ تم اس کو خریدلوگے تو اس نے کہا کہ اس وقت 300 روپے کا ریٹ چل رہا ہے اس کے حساب سے لے لوں گا۔ بعد میں دومہینے گزر گئے درمیان میں کوئی بات نہیں ہوئی، دو ماہ بعد دوبارہ بات ہوئی تو اس نے کہا کہ اب 285 روپے ریٹ چل رہا ہے تو اس کے حساب سے لے لوں گا۔ پوچھنا یہ تھا جو 300 روپے ریٹ پر بات ہوئی تھی اس کے مطابق ریٹ دوبارہ طے ہوگا یا جو ریٹ کم ہوگیا ہے اس کے حساب سے۔
:قال اللہ تعالی
یا ایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم۔
:السنن الکبری(6/17)
وقد روی عن ابی سعید الخدری ان رسول اللہ ﷺ قال:انما البیع عن تراض ان النبی ﷺ قال: لا یحل مال امرئ مسلم بطیب نفس منہ
:فقہ البیوع(1/25)معارف القرآن
ومن شروط صحۃ البیع: ان یقع عقد بتراضی الطرفین ،والاصل فیہ قول اللہ تعالی (یا ایھا الذین امنوا لا تاکلوا۔۔۔۔۔۔۔)فحیث انعدم رضا احد الفریقین او کل منھما، لم یصح البیع۔
:فقہ البیوع(1/188)معارف القرآن
رضا المتعاقدین:ویجب لجواز البیع تراضی المتعاقدین ۔۔۔۔۔ومما یفوت بہ رضا احد المتعاقدین: الاکراہ،والاضطرار،والتعزیر،او التدلیس،والخطا،والھزل۔