بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

روزے کی حالت میں جماع کرنے سے میاں بیوی دونوں پر قضاو کفارہ کا حکم

سوال

اگر کوئی آدمی رمضان المبارک میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر کے صرف دخول کرے جس میں انزال نہ ہوا ہو تو کیا اس صورت میں قضا و کفارہ دونوں لازم ہوں گے یا صرف قضا لازم ہوگی۔

جواب

روزے کی حالت میں جماع

رمضان المبارک میں اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کرلے ، خواہ انزال ہو یا نہ ہو تودونوں پر قضاو کفارہ لازم ہوگا، جب بیوی راضی ہو اور شوہرنے بیوی پر زور زبردستی نہ کی ہو،لیکن اگر شوہرنے بیوی پر زور زبردستی کی ہوتو بیوی پر صرف قضا لازم ہو گی کفارہ نہیں ۔
الفتاوى الهندية (1/ 205) دار الفكر:
من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولا يشترط الإنزال في المحلين كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعة، وإن كانت مكرهة فعليها القضاء دون الكفارة، وكذا إذا كانت مكرهة في الابتداء ثم طاوعته بعد ذلك كذا في فتاوى قاضي خان.
الدر المختار (2/ 409) دار الفكر:
(وإن جامع) المكلف آدميا مشتهى (في رمضان أداء) لما مر (أو جامع) أو توارت الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أو لا….. قضى) في الصور كلها (وكفر).
فتح القدير (2/ 336) دار الفكر:
(ومن جامع في أحد السبيلين عامدا فعليه القضاء) استدراكا للمصلحة الفائتة (والكفارة) لتكامل الجناية ولا يشترط الإنزال في المحلين اعتبارا بالاغتسال، وهذا لأن قضاء الشهوة يتحقق دونه وإنما ذلك شبع، وعن أبي حنيفة – رحمه الله -: أنه لا تجب الكفارة بالجماع في الموضع المكروه اعتبارا بالحد عنده. والأصح أنها تجب لأن الجناية متكاملة لقضاء الشهوة.
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس